ایران کے بعد پاکستان میں‌بھی "دیوار مہربانی" قائم -
The news is by your side.

Advertisement

ایران کے بعد پاکستان میں‌بھی “دیوار مہربانی” قائم

دیوار مہربانی کا ایران سے شروع ہونے والا سفر سرحدی حدود کو پھلانگتا ہوا پاکستان میں بھی پہنچ گیا ہے، فیصل آباد ، لاہور، کوئٹہ حیدرآباد اور کراچی کے بعد اب راولپنڈی میں بھی دیوار مہربانی بنا دی گئی ہے جہاں شہری استعمال شدہ چیزیں رکھتے ہیں اور ضرورت مند لوگ وہ چیزیں اٹھا کر استعمال کرتے ہیں۔

’دیوارِ مہربانی‘ وہ دیوار ہے جہاں شہری اپنے عطیہ کردہ جوتے، کپڑے اور دیگر اشیاء چھوڑ جاتے ہیں اور ضرورت مند اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق یہاں سے چیزیں لے جاتے ہیں۔

اس دیوار پر شہری استعمال شدہ چیزیں آکر رکھ دیتے ہیں اور ضرورت مند لوگ وہ چیزیں اٹھا کر استعمال میں لاتے ہیں، نہ دینے والے میں احساس تکبر پیدا ہے اور نہ ہی لینے والے کو احساس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس عمل میں لینے اور دینے والے دونوں ہاتھ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پاتے۔ بعض شہری تو نئی چیزیں خرید کر دیوار مہربانی کو بخش دیتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بہترین کوشش کا آغاز اگرچہ ایران سے ہوا ہے لیکن پاکستانی بھی انسانیت کی خدمت کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

کراچی کے علاقے ملیر میں ایک نوجوان نے غریبوں کی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیئے دیوارِ مہربانی قائم کردی ہے۔ دیوار بنانے کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں قائم دیوار مہربانی کا تصور پرانا نہیں، جبکہ کراچی میں بھی اسی تصور کے تحت قائم کی جانے والی دیوار مہربانی کے ذریعے شہریوں کے عطیہ کردہ کپڑے اور جوتے مستحق افراد تک باآسانی پہنچنا ممکن ہوجائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں