The news is by your side.

جدہ میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے دہشت گرد کی شناخت ہوگئی

ریاض: سعودی عرب میں دہشت گردی میں ملوث ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، مذکورہ دہشت گرد سعودی سیکیورٹی فورسز کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔

اے آر وائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کے سامر محلے میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے دہشت گرد کی شناخت کرلی گئی ہے، ملزم 7 برس سے مفرور تھا اور سیکیورٹی فورسز کے تعاقب سے بچنے کے لیے دھماکا کیا تھا۔

خودکش دہشت گرد کی شناخت عبد اللہ بن زاید بن عبد الرحمٰن البکری الشھری کے نام سے ہوئی ہے، عبداللہ الشھری سعودی سیکیورٹی فورسز کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔

عبداللہ الشھری نے 6 اگست 2015 کو عسیر ریجن میں ایمرجنسی فورس کی مسجد پر ظہر کی نماز کے دوران دھماکے کی منصوبہ بندی میں شامل تھا، دہشت گرد حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، ان میں سے 5 ایمرجنسی سیکیورٹی فورس کے اہلکار تھے۔ 6 حج سیکیورٹی فورس کے زیر تربیت اہلکار اور 4 بنگلہ دیشی کارکن تھے۔

دہشت گردی کے اس واقعے میں حملہ آور یوسف السلیمان ہلاک ہو گیا تھا۔

دھماکے کے بعد سے 33 سالہ عبد اللہ بکری الشھری روپوش تھا جبکہ حملے میں ملوث گروپ کے 9 ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

ایمرجنسی سیکیورٹی فورس کی مسجد پر حملہ آور 9 افراد میں سے صرف دو زندہ تھے، ان میں سے ایک عبد اللہ الشھری تھا جو السامر محلے میں خودکش دھماکے میں مارا گیا، اب صرف اس کا بڑا بھائی ماجد زاید عبد الرحمٰن البکری الشھری روپوش ہے۔

عبداللہ الشھری عسیر میں حملہ کرنے والے دہشت گرد گروہ کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھا۔

یہ گروہ 9 دہشت گردوں پر مشتمل تھا ان میں سے 6 مارے گئے، ایک بیشہ میں پکڑا گیا جبکہ عبداللہ الشھری نے خودکش دھماکہ کرکے خود کو ہلاک کر لیا اور گروہ کا نواں رکن عبداللہ الشھری کا سگا بھائی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی پریزیڈنسی آف سٹیٹ سکیورٹی نےایک بیان میں کہا تھا کہ جدہ میں خود کش جیکٹ پہنے ایک شخص کو جب سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

مذکورہ شخص جسے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد قرار دیا ہے، شہر کے الصمیر محلے میں جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گیا۔ دھماکے میں ایک پاکستانی شہری اور تین سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں