The news is by your side.

Advertisement

چترال میں واپڈا نے ہزاروں درخت کاٹ دیے

چترال: ملک کے خوبصورت ترین علاقے میں واپڈا نے ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے جنگلا ت اور زرعی زمین کا بے دریغ صفایا کردیا‘ ہزاروں کی تعداد میں قد آور پھل دار درخت کاٹ ڈالے ‘ متاثرین نے نقصان کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق گولین گول پن بجلی گھر سے مین ٹرانسمیشن لائن لے جانے کے لیے واپڈا کا ٹھیکیدارچترال کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی کٹائی میں مصروف ہے۔ بروز کے بعد بیر بولک کے مقام پر ہزاروں درخت کاٹے جارہے ہیں اور متاثرین کے بارہا احتجاج کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک تین ہزار درخت کاٹے جاچکے ہیں جبکہ مزید دو ہزار درخت کٹنا باقی ہیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ واپڈا کے ٹھیکیدار صرف پیسہ بچانے کے لیے بنجر زمین اور پہاڑی علاقے چھوڑ کر ہمارے زرعی زمین اور جنگلات میں سے بجلی کی ٹرانسمینش لائن گزاررہے ہیں‘ جس کے لیے اب تک ہزاروں تناور درخت کاٹے جاچکے ہیں۔ ان درختوں میں نہایت نایاب قسم کے درخت جسے شاہ بلوط کہتے ہیں وہ بھی شامل ہیں جن کی افزائش نہایت سست رفتاری سے ہوتی ہے اور اس کی عمر دس ہزار سال تک بڑھ جاتی ہے۔ ان کے علاوہ قومی درخت دیار، اخروٹ، خوبانی، ناشپاتی، املوک، شاہ توت اور دیگر میوہ دار درختوں کو بھی کاٹا گیا اور ان کو معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔

اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل فارسٹ سید محمود ناصر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان درختوں کی اس طرح بے دریغ کٹائی پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے اسے ماحولیات کے لیے خطرناک بتایا۔

گولین گول کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی سے جب اس حوالے سے استفار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم فارسٹ رولز کے مطابق ان درختو ں کی ادائیگی کرتے ہیں اور ڈپٹی کمشنر چترال کے اکاؤنٹ کے ذریعے ان متاثرین میں یہ رقم تقسیم ہوتی ہے ۔

دوسری جانب متاثرین کا کہنا ہے کہ صرف بجلی کے ٹاور کے نیچے جو زمین آتی ہے اس کی مالیت سے کچھ کم قیمت ادا کی گئی ہے تاہم واپڈاایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک جو بجلی کا تار بچھارہا ہے ان کے نیچے بھی درختوں صفایا کیا جارہا ہے اور ان کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف صوبائی حکومت اربو ں کی تعداد میں درخت لگانے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف واپڈا و الے علاقے کے حسین ترین جنگل کو کاٹ کر تباہ کررہے ہیں جن میں کئی سال پرانے درخت بھی موجود ہیں اور قانون کے مطابق جس درخت کی عمر ستر 70 سال ہوجائے وہ قومی اثاثہ تصور ہوتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے سابق سب ڈویژنل آفیسر عنایت الملک کا کہنا ہے کہ یہ درخت اور جنگل پرندوں کا مسکن تھے جہاں بہت نایاب پرندے رہتے تھے تاہم درختوں کی کٹائی سے ان کی افزائشِ نسل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ان متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر پانی و بجلی اور چیئرمین واپڈا سے اپیل کی ہے کہ ان کی زرعی زمین اور جنگل میں ہزاروں کی تعداد میں جو درخت کاٹے گئے ہیں ان کے عوض ان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے کیونکہ یہ نہایت پسماندہ لوگ ہیں اور یہ جنگل اور زمین ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا جسے واپڈا نے کاٹ کر ختم کردیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں