ہفتہ, دسمبر 13, 2025
اشتہار

سیّد وقار عظیم:‌ اردو ادب کا ایک رمز شناس

اشتہار

حیرت انگیز

اردو زبان و ادب کا وقار بلند کرنے والے وقار عظیم کو ایک ادیب، نقاد، محقق اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ اردو میں افسانوی ادب کے اوّلین نقاد کے طور پر بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تنقیدی بصیرت سے کام لے کر اردو میں داستان، ناول اور افسانے کے ربطِ باہمی، ارتقا اور فنی اختلاف و حدود کو جس طرح بیان کیا ہے اس کی مثال اردو تنقید کے شعبہ میں کم ہی ملتی ہے۔

1976ء میں وقار عظیم آج ہی کے روز خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ انھوں نے اردو میں فنِ تنقید کو نیا موڑ عطا کیا اور اسے نئے میلان اور وسیع تر امکانات سے دوچار کیا۔ سید وقار عظیم پہلے نقاد ہیں جنھوں نے افسانے کی مبادیات اور تشکیلی عناصر پر سیر حاصل بحث کی۔ وقار عظیم کو اردو کا پہلا “غالب پروفیسر” بھی مقرر کیا گیا۔ یہ تخصیصی منصب ثابت کرتا ہے کہ اقبال عظیم اردو ادب میں نثر و نظم کے کلاسیکی اور جدید دور کے ایک ایسے رمز شناس تھے جن کی رائے معتبر اور ان کا فرمایا ہوا مستند تھا۔ اردو ادب کے دامن کو اپنے وسیع مطالعہ اور تنقیدی بصیرت سے مالا مال کرنے والے اقبال عظیم کی متعدد کتبان کی یادگار بھی ہیں۔ یہ کتابیں سید وقار عظیم کی محنت اور لگن کے ساتھ ان کے وسیع مطالعے اور غور و فکر کا نچوڑ ہیں۔ انھوں نے تصنیف و تالیف میں ایک عمر گزار دی اور اردو نثر اور نظم کی مختلف اصناف پر ان کے وقیع مضامین اور مقالے کتابی شکل میں ایک بڑا خزانہ ہیں۔

ادب کے اس گوہرِ قابل کا پورا نام سیّد وقار عظیم تھا۔ 15 اگست 1910ء کو الٰہ آباد (یو پی) کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد کے دوستوں میں اپنے وقت کے مشہور شاعر اور ادیب شامل تھے جو ان کے گھر آیا کرتے اور وہاں محفل جمتی تو وقار عظیم بھی اشعار اور مختلف موضوعات پر ان کی گفتگو سنتے، جس نے انھیں ادب کا شیدا بنا دیا۔ تعلیمی میدان میں وہ شان دار نمبروں سے کام یاب ہوتے رہے اور اسی عرصہ میں مطالعہ کے ساتھ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا اور بعد میں الٰہ آباد یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ دہلی میں‌ تدریسی فرائض انجام دیے۔ اسی زمانے میں انھوں نے ادبی جریدے “آج کل” کی ادارت سنبھالی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سید وقار عظیم 1949ء میں لاہور چلے آئے اور نقوش کے مدیر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا جو 1970ء تک جاری رہا۔ اس عرصے میں انھوں‌ نے اقبال اکیڈمی اور مختلف ادبی مجالس اور انجمنوں‌ اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔

ان کی کتابیں داستان سے افسانے تک، نیا افسانہ، ہماری داستانیں، فن اور فن کار، ہمارے افسانے، شرح اندر سبھا، اقبال بطور شاعر، فلسفی اور اقبالیات کا تنقیدی جائزہ کے عنوان سے شایع ہوئیں۔ پروفیسر سید وقار عظیم لاہور میں‌ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک کیے گئے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں