The news is by your side.

Advertisement

ترکی: ناکام فوجی بغاوت، 211 فوجیوں سمیت 300 افراد کی گرفتاری کا حکم

انقرہ: ترکی نے ماضی کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے شبہے میں 211 ترک فوجیوں سمیت 300 افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق 18 جولائی 2016 کو ترکی میں فوج کے باغی گروہ کی اقتدار پر قبضے کی کوشش عوام نے ناکام بنادی تھی، اس دوران عوام سڑکوں پر نکل کر ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے بعد ازاں ترک فوج کے باغی ٹولے نے باسفورس پل پر ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ترکی میں ہونے والی اس ناکام فوجی بغاوت سے متعلق تحقیقات کرنے والی ’استغاثہ ٹیم‘ کے سرابراہ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ مشتبہ 300 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جائے جن میں 211 فوجی بھی شامل ہیں، خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ افراد بغاوت میں ملوث ہو سکتے ہیں تاہم گرفتاری کے بعد پوچھ گچھ کی جائے گی۔


ترکی:عدالت نے 13صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں سزا سنادی


واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کو انقرہ میں بغاوت کرنے والے گروپ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، گولن خود ساختہ جلاوطنی کے بعد سے امریکا میں ہی مقیم ہیں، ترک حکام نے امریکی حکومت کو درخواست دی تھی کہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے لیکن امریکا نے گولن کو ترکی بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔


ترکی میں بغاوت کی کوشش عوام نے ناکام بنادی، 250 سے زائد افراد ہلاک


خیال رہے کہ رواں سال 29 اپریل کو ترکی کی عدالت عالیہ نے دہشت گرد گروہوں سے رابط اور سنہ 2016 میں باغیوں کی حمایت کرنے کے الزام میں 13 صحافیوں کو سزا سناتے ہوئے جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے اس عمل کی شدید مذمت بھی کی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں