The news is by your side.

Advertisement

آمنہ جسے افریقا کے لوک ادب میں مرد کے روپ میں‌ پیش کیا گیا

مغربی افریقا کے قدیم تجارتی راستے اور مصروف گزر گاہیں آج مختلف ممالک کے درمیان سرحدوں میں‌ بٹ چکی ہیں جن میں سے ایک نائجیریا ہے جو قدیم تہذیب اور روایات کا امین ہے۔ اس خطّے کی تہذیب اور تاریخ و ثقافت متنوع اور ہمہ رنگ ہے جہاں آٹھویں صدی میں اسلام کی بہار آئی اور مسلمانوں‌ کی حکومت قائم ہوئی۔

اسی سرزمین پر لگ بھگ پانچ صدی‌ قبل ایک لڑکی نے جنم لیا تھا جس کا نام تاریخ کے اوراق میں‌ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ اس کا ذکر افریقا کی لوک داستانوں اور شاعری میں‌ کیا گیا اور آج بھی خاص طور پر نائجیریا میں‌ اسے عزم و ہمّت، بہادری اور جواں مردی کی مثال اور طاقت کی علامت مانا جاتا ہے۔

اس لڑکی کا نام آمنہ تھا جس نے 1533 میں اس وقت کے ایک مال دار اور امیر کبیر گھرانے میں‌ آنکھ کھولی۔ اس کی جائے پیدائش زازاؤ نامی وہ علاقہ ہے جو اب نائجیریا میں‌ شامل ہے۔ آمنہ کے والد اور ان کا خاندان دھاتوں‌ اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھا۔ یہ خاندان “الھوسا” کہلاتا تھا اور زازاؤ پر آمنہ کے والد کی امارت بھی قائم تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا اور آمنہ کا بھائی کرامہ تخت نشیں ہوا جب کہ آمنہ نے ایک الگ ہی راستہ چنا۔

اس نے فوج کا حصّہ بننا پسند کیا۔ دراصل سپاہ گری اس کا شوق تھا۔ وہ شروع ہی سے بہادر اور نڈر تھی۔ اس نے اپنے شوق اور لگن کے سبب روایتی ہتھیار چلانے اور سامانِ حرب کا استعمال سیکھا۔ حکم راں خاندان کی اس لڑکی نے میدان میں طاقت آزمانے کو اہمیت دی اور ثابت کیا کہ وہ کسی بھی محاذ پر بے جگری سے دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ یوں اسے اپنی فوج میں اہم مقام حاصل ہوا۔

1576 میں آمنہ کے بھائی کی موت کے بعد رعایا نے اسے اپنی ملکہ منتخب کرلیا۔ آمنہ کو اس سرزمین کی پہلی خاتون حکم راں کہا جاتا ہے جس نے ملکہ بننے کے چند ماہ بعد فوجی مہمات شروع کیں اور متعدد لڑائیوں میں آگے رہی۔

نائجیریا کی اس ملکہ کو افسانوی شہرت ملی اور لوک داستانوں میں اسے ایک مرد کی صورت پیش کیا گیا ہے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیتا ہے۔

آمنہ کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ ہر محاذِ جنگ سے واپسی پر شادی کرتی اور چند ہفتوں بعد وہ رشتہ ختم کردیتی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں