اختیارات کے مسائل پر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا: وزیر بلدیات و میئر کراچی -
The news is by your side.

Advertisement

اختیارات کے مسائل پر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا: وزیر بلدیات و میئر کراچی

کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اختیارات کے جو مسائل ہیں ان پر کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ مل کر آگے بڑھیں گے تو مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوں گے، جو بھی مسائل ہیں ان کے حل کے لیے بھرپور معانت کروں گا۔ ہم نے آگے بڑھنا تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔

میئر نے کہا کہ جو بھی مسائل ہیں ان کے حل کے لیے بھرپور معاونت کروں گا، وزیر بلدیات سندھ سے اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی۔ پرامید ہوں مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایک تاثر تھا کہ وزیر بلدیات سندھ میئر سے ملاقات نہیں کرتے، وسیم اختر سے ملاقات کے بعد یہ تاثر ختم ہوجانا چاہیئے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ ابھی شروع کیا پہلی ملاقات میئر کراچی سے ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باقی شہروں میں جا کر دیگر منتخب نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کروں گا، میئر کراچی سے ہماری بات چیت ہوتی رہی ہے۔ ناراضی کا کوئی ایشو نہیں ہے ہماری ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی۔

وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو یقین دہانی کروائی کوئی زیادتی نہیں ہوگی، میئر کراچی یا صوبائی وزیر کسی جماعت کا نہیں عوام کے ہیں۔ اختیارات کے جو مسائل ہیں ان پر کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قانون میں موجود جو چیزیں ہیں وہ میئر کراچی کو فراہم کی جائیں گی، جو نظام ہمارے پاس موجود ہے اس میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔ شہریوں کے مفادات پر میری میئر کراچی سے کوئی لڑائی نہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کر آگے بڑھنا ہے کوئی کسی بھی جماعت سےتعلق رکھتا ہو، کراچی کے مسائل اولین ترجیح ہے، مل کر مسائل حل کریں گے۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ بلدیاتی مسائل موجودہ قانون کے ماتحت ہی حل کر سکتے ہیں، جو قانون کے تحت میئر کے اختیارات نہیں اس پر بعد میں بات ہوگی، جو اختیارات ہیں اور میئر کو نہیں مل رہے دلانے کی کوشش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ مل کر اپنی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ذمہ داریاں نبھائیں گے، اسمبلی اس قانون کو پاس کرتی ہے جسے وہ بہتر سمجھتی ہے۔ موجودہ قانون میں مزید بہتری کے لیے طریقہ کار موجود ہے، ’مضبوط بلدیاتی نظام کا حامی ہوں‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں