The news is by your side.

Advertisement

میرے مستعفی ہونے سے کیا کراچی کے مسائل حل ہوجائیں گے؟ میئر کراچی

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی کے حالات تب تک نہیں سدھر سکتے جب تک آرٹیکل 140 اے پر عملدر آمد نہیں ہوگا، میرے استعفیٰ دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن ہوں گے، کراچی کا 70 فیصد اتھارٹی لینڈ کنٹرول وفاق کے پاس ہے، 20 فیصد سندھ حکومت اور 10 فیصد کے ایم سی کے پاس ہے۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے خود میری اس بات کو تسلیم کیا ہے، اتھارٹی کا بہانہ بنا کر کراچی کو ستیاناس کر دیا ہے، جو پیسہ ملتا ہے وہ کہاں جاتا ہے۔ کراچی کے عوام ٹیکس دیتے ہیں اور کام نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے پورا پاکستان آگیا ہے، آج تجاوزات کے حوالے سے مجھے عدالت میں بلایا گیا تھا، جو جو کام ہوئے ان کی رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ عوام نے تو ووٹ ڈال کر منتخب کر دیا مگر اختیارات نہیں، جب تک آرٹیکل 140 اے کی پٹیشن پر فیصلہ نہیں ہوگا کراچی کا بھلا نہیں ہوگا، کراچی کے حالات نہیں سدھر سکتے جب تک آرٹیکل 140 اے پر عملدر آمد نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک اور پانی کے اختیارات بھی میرے پاس نہیں۔ کوئی بھی میئر آجائے، وسائل اور اختیارات کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس کی ناراضگی کو مانتا ہوں۔

میئر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ استعفیٰ کیوں نہیں دے دیتے، اگر میں استعفیٰ دے دوں تو کیا مسائل حل ہوجائیں گے، میں مسائل کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ جس طرح کراچی کے مسائل حل ہونے چاہیئے تھے اس طرح نہیں ہوئے، اس طرح عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں