site
stats
سندھ

ارشد وہرہ کی مجبوری سمجھتا ہوں، دباؤ میں آکر قدم اُٹھایا، وسیم اختر

کراچی : میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ارشد وہرا کو آج بھی اپنا بھائی سمجھتا ہوں اُن پر دباؤ تھا چنانچہ جو بہتر سمجھا وہ انہوں نے کیا تاہم اگر وہ مستعفی نہیں ہوتے تو پھر قانونی طریقہ کار موجود ہے.

وہ سٹی اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے میئر کراچی نے کہا کہ اختیارات کیلئے مجھ سے زیادہ ارشد وہرا نے آواز اٹھائی لیکن تعجب کی بات ہے کہ آج وہی ارشد وہرا کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ڈیلیورنہیں کیا.

ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ضرورت نہیں اُن کے ساتھ کام کیا ہے اس لیے ان کی مجبوری سمجھتا ہوں.

 

وسیم اختر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاک سرزمین پارٹی نے ڈیفنس سرٹیفکیٹ کھولا ہے جہاں ہمارے بھی بہت سے لوگ گئے ہیں جو ایم کیو ایم کا فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹ ہے اور یہ 2018 کے بعد ہمیں منافع کے ساتھ واپس ملے گا.

قبل ازیں ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کی پی ایس پی میں شمولیت کے بعد سٹی کونسل کا پہلا اجلاس ہنگامے کی نذر ہو گیا اپوزیشن اراکین کے نعرے بازی اور ایم کیو ایم اراکین کے جوابی نعروں سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا.

میئر کراچی وسیم اختر نے اس شور شرابے کے دوران ہی قرارداد منظور کراکر اجلاس ملتوی ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد بھی اپوزیشن ارکان سٹی کونسل ہال میں احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے.

جس پر میئرکراچی وسیم اختر نے کہا کہ اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دینا چاہتی کیوں کہ اپوزیشن کا ایجنڈا صرف اور صرف شور شرابہ کرنا ہے اور ہلڑ بازی کرو تاکہ تمام کارروائی ہنگامے کے نذر ہوجائے.

دوسری جانب حیران کن طور پر سٹی کونسل اجلاس میں احتجاج اور ہلڑ بازی کے بعد اپوزیشن اراکین نے میئر کراچی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی بات کرنے کا موقع مل جاتا تو اچھا ہوتا.

وسیم اختر نے اپوزیشن اراکین کی شکایات کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کرپٹ افسر چاہے فاروق ستارکا لگایا ہوا ہو یا کسی اور کا ہو میں سخت کارروائی کروں گا.

آج کے اجلاس کی سب سے اہم بات کے ایم سی عمارت کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے وسیم اختر کے خلاف بینرز آویزاں ہونا ہے جن میں وسیم اختر پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے جب کہ کچھ افراد نے میئر کراچی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا اور مرکزی گیٹ کو تالا لگا دیا اور ایسا سٹی کونسل کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top