مصوری نے ہمیشہ انسانی تخیل اور وجودی تجربے کے بیچ ایک پُل جیسا کردار ادا کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے اُن قدیم ترین اظہاری وسائل میں سے ہے جن کے ذریعے انسان نے اپنے وجود، خوف، خواب اور تجربات کو مرئی صورت بخشی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مصوری نے تہذیبوں کے فکری اور جمالیاتی مزاج کو نہ صرف ظاہر کیا بلکہ ان کی تشکیل بھی کی۔ کبھی مذہب اور روحانیت کے بیان کے طور پر، کبھی طاقت اور ماضی کی ایک علامت بن کر، اور کبھی فرد کی داخلی تنہائی کے آئینے کے طور پر۔
انسانی تاریخ کے ایک طویل عرصے تک یہ فن روایتی قیود میں گرفتار رہا، لیکن جدید دور نے اسے بندشوں سے آزاد کر دیا، اور دکھایا کہ مصوری محض چیزوں اور مناظر کی پیش کش نہیں ہے بلکہ یہ اُس تجربے کو بیان کرتا ہے جس سے انسان گزرتا رہتا ہے۔ یعنی شے نہیں بلکہ اُس شے کو دیکھنے کا تجربہ۔ برصغیر کے ثقافتی تناظر میں مصوری نے جو کچھ بیان کیا اس میں روحانیت اور علامت کا باہم جوڑ نظر آتا ہے۔ تقسیم کے بعد ہمیں یہ روایت پاکستان میں ایک نئے فکری اور جمالیاتی رخ کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ یہاں فنونِ لطیفہ کو نہ صرف شناخت کے سوال کا سامنا رہا بلکہ روزمرہ زندگی، سیاست اور وجودی بے چینی کو بھی اس نے بصری اظہار کا حصہ بنایا۔
پاکستانی تناظر میں مصوری کی تاریخ ایک خاص تہذیبی شعور کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
تقسیم کے بعد فنونِ لطیفہ نے یہاں شناخت، روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ قائم کیا۔ چغتائی کے صوفیانہ رومان سے لے کر صادقین کی علامتی دیوار نگاری (میورلز)، خالد اقبال کے لینڈ اسکیپس میں سکوت کی جمالیات، احمد پرویز کی تجریدی اظہاریت اور اقبال حسین کے شہری مناظر سے ہوتے ہوئے معاصر مصوروں کی تجریدی و وجودی مصوری تک، پاکستانی آرٹ نے اپنی بنیاد ہمیشہ اُس سوال پر رکھی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمیں کیا دکھائی دیتا ہے؟ پاکستانی مصوری نے رفتہ رفتہ محض روایت یا مزاحمت کا بیان رہنے کی بجائے ایک تخلیقی مکالمے کی صورت اختیار کی ہے، جہاں فن کار نے اپنے داخلی اضطراب، زمین کی حقیقت اور عالمی رجحانات کو ایک ساتھ برتا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ممتاز مصور وصی حیدر کا نام پاکستانی مصوری کے منظر نامے پر ابھرنے والا ایک ایسا نام ہے، جس نے رنگوں کی اپنی ایک زبان تشکیل دی ہے۔ اس زبان میں رنگ، اسٹرکچر اور بُرش کے اسٹروکس سے ایک ایسا فن سامنے آیا ہے، جس میں شدت اور سکوت تحلیل محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی پینٹنگز میں منظر محسوس ہونے والی ایک کیفیت پر مبنی ہوتی ہے جو بینائی کے وسیلے سے ایک نئی بصری زبان میں ڈھلتی محسوس ہوا کرتی ہے۔ میں ان کے کینوس کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے جیسے جذبہ اور خیال منفرد طور سے مل کر اپنا ایک معنیٰ تخلیق کر رہے ہیں۔
وصی حیدر کا فن کئی سمتوں میں وسیع ہوتا دکھائی دیتا ہے، پوائنٹلزم (Pointillism) میں انھوں نے اپنا ایک الگ رنگ ابھارا ہے، اس میڈیم میں مصور کسی منظر یا شے کو چھوٹے اور الگ الگ رنگی نقطوں سے بناتا ہے، جس سے یہ جذباتی اظہار کم اور بصری تجربہ زیادہ رہ جاتا ہے۔ اس میڈیم میں وصی منفرد اور ماہرانہ استعمال کے باعث جانے جاتے ہیں۔ اس میڈیم کا نیو امپریشنزم سے گہرا تعلق رہا ہے۔ ایک اور سمت، جہاں وصی حیدر کی تخلیقیت سرکتی ہے اور دل لبھاتی ہے؛ وہ ہے نیو ایکسپریشنزم (Neo-Expressionism)۔ یہ بیسویں صدی کے آخری حصّے میں اُبھرنے والی ایک طاقت ور فنّی تحریک ہے، جو جدیدیت کے اندر دبے ہوئے جذباتی اور شخصی اظہار کو دوبارہ ابھارنے کی کوشش تھی۔ یہ ایبسٹریکٹ آرٹ (تجریدی فن) کے بعد آنے والی عقلی اور غیر شخصی فنّی فضا کے خلاف ایک ردِ عمل کے طور پر سامنے آئی۔ اس میں مصور اپنی اندرونی کیفیت، ذاتی تجربے اور جذباتی اضطراب کو براہِ راست رنگوں اور حرکات کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ چہرے، جسم یا مناظر اکثر تحریف شدہ یا علامتی (symbolic) ہوتے ہیں۔ وصی حیدر نے اس اُسلوب میں بہت شان دار کام کیا ہے، انھوں نے جو بھی موضوع پینٹ کیا وہ بہت شدت کے ساتھ، اور ایک الگ انداز میں اور کہیں کہیں نظریاتی پس منظر کے ساتھ پینٹ کیا۔ ایک اور سمت بھی ہے جہاں وصی حیدر کے رنگ ایک خاص وضع میں اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ لفظ بہار میں نے جملے کی مناسبت نہیں لکھا بلکہ اس سمت، جو کہ ایبسٹرکٹ (تجرید) کی سمت ہے، میں ان کے فن پارے واقعی نگاہوں پر ایسا رنگین جادو کرتے ہیں کہ ناظر کی طبیعت میں دھنک سی پڑ جاتی ہے۔
وصی حیدر نے مختلف اسالیب میں کام کیا، اُن کی پینٹنگز میں کبھی نیو ایکسپریشنزم کی جذباتی شدت، کبھی پوائنٹلزم کی بصری باریکی، اور کبھی ابسٹریکٹ آرٹ کی آزاد ساخت جھلکتی ہے۔ میں نے جب ان کے اسٹوڈیو میں ان کے کام کی مختلف جہتیں دیکھیں تو مجھے وہ ایک ایسے کثیرالاسلوب مصور کے طور پر نظر آئے جن کے فن میں تجربے کی ایک للک ہے، ایک لپک ہے۔ اس لیے، ان کے ہاں جو اُسلوبی تنوّع ہے، اس میں مجھے ایک طرف نیو ایکسپریشنزم کی جذباتی فزیکلٹی نظر آئی، دوسری طرف پوائنٹلزم کی ایک گہری بصری ساخت، اور تیسری طرف ایبسٹریکٹ آرٹ کی تصوراتی لیکن دمکتی ہوئی آزادی۔ انھوں نے ہر اسٹائل میں داخل ہو کر اُس کی داخلی منطق ہی نہیں، رنگوں کی توانائی اور اظہار کے امکانات کو بھی کھوجا۔
یہ 13 فروری 2025 کا دن تھا جب کٹاس راج آرٹ گیلری اور اکادمی ادبیات پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں، جڑواں شہروں کے نظم کے معاصر شعرا کے کلام پر مبنی فن پاروں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ یہ فن پارے وصی حیدر نے تخلیق کیے تھے۔ یہ واقعہ پاکستانی فنونِ لطیفہ میں ایک ایسے تخلیقی مکالمے کی علامت تھا جس میں مصوری اور شاعری ایک دوسرے کے تجربے کو وسعت دے رہے تھے۔ جب ایک مصور نظم کے متن سے مکالمہ کرتا ہے تو وہ الفاظ کی بجائے رنگ، ساخت اور سرفیس کے ذریعے اسی جذبے یا تصور کو مجسم کرتا ہے جو شاعر نے علامت یا استعارے کی صورت میں برتا تھا۔ اس عمل میں نظم تصویری بن جاتی ہے اور تصویر لسانی۔ یوں دونوں فنون ایک بین المتنی (intertextual) تعلق میں داخل ہو کر معنی کی نئی سطح پیدا کرتے ہیں۔ پاکستانی تناظر میں یہ تعلق خاص اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہاں شاعری کئی صدیوں سے جذبات اور فکر کی مرکزی لسانی روایت رہی ہے، اور مصوری جب اس روایت سے جڑتی ہے تو اسے محض بصری اظہار کسی طور نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ یہ ایک شعری حسیت کا تسلسل بن جاتی ہے۔ اس نمائش نے اسی باہمی تخلیق کے لمحے کو نمایاں کیا۔
وصی حیدر نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے نامور شعرا کی نظموں کے ٹکڑے لے کر انھیں رنگ اور علامت کے ایسے بصری قالبوں میں ڈھالا جہاں کینوس پر شاعری کو جنم دینے والا جذبہ نیا وجود اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ ان شعرا میں نصیر احمد ناصر، رفیق سندیلوی، اختر عثمان، کشور ناہید، انوار فطرت، اختر رضا سلیمی، فاخرہ نورین، فرخ یار، علی محمد فرشی، نجیبہ عارف، ارشد معراج، روش ندیم، پروین طاہر، الیاس بابر اعوان، سرمد سروش اور کئی دیگر شامل ہیں۔ میں یہاں ان فن پاروں میں سے چند پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں، جس کی وجہ شاعری اور مصوری کا وہ سنگم ہے جہاں دونوں نے مل کر ایک نئی معنویت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور میری یہ کوشش بھی اسی معنویت کو سمجھنے کے لیے ہے۔
انوار فطرت: فن پارے کی تخلیق کا محرک
انوار فطرت کی ایک نظم کے ٹکڑے پر مبنی یہ پینٹنگ فگریٹیو ایکسپریشنسٹک (اظہاریت پسندانہ/اندرون کے جذبات کا اظہار) اسٹائل کی تو ہے لیکن اس میں تجریدی انداز (جیسے کہ نچلے حصے میں خواتین جیسی تجریدی شکلیں) بھی جھلکتا ہے، اور گہرے تیز رنگوں کے ذریعے اس میں ایک تہ دار تصویری (بافت انگیز/ٹیکسچرڈ) رویہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر ہم اس فن پارے کی تخلیق کا محرک (یعنی نظم کا ایک ٹکڑا) نظر انداز کریں، تو اس سے مصور کے اندر کا اضطراب اور سماجی بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے، صرف یہی نہیں، یہ فن پارہ مصور کا فکری، جمالیاتی اور وجودی مؤقف بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ایک ایسا مؤقف جہاں ماضی اور حال کا تناؤ موضوع بن رہا ہے، ’’آگے چلوں، تو مڑ مڑ کر پیچھے دیکھنا پڑتا ہے، کہیں گمانوں کی رہنمائی تو نہیں کر رہا!‘‘ یعنی شاعر کی طرح مصوّر بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے رنگوں سے سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا انسان کا ماضی اُس کے سفرِ حال میں راہنمائی کرتا ہے یا رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ تضاد کہیں زیادہ گہری سطح پر وصی حیدر کے رنگوں کے انتخاب میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جہاں ہم گہرے سرخ اور سبز رنگوں کے تضاد کو ایک جذباتی کشمکش ابھارتے دیکھ سکتے ہیں۔
خواتین کی تجریدی شکلوں کی صورت میں اس پینٹنگ میں جو فن کارانہ خد و خال (Stylized Figures) دکھائی دے رہے ہیں، ایسے عناصر محسوس ہوتے ہیں جو انسان کے شعور کو جکڑے رکھتے ہیں، ماضی کے دھندلے نقوش جنھیں مکمل طور پر شناخت نہیں کیا جا سکتا، اور یہ اشکال بہت مہارت سے غیر واضح ساخت میں نظر آ رہی ہیں۔ اب ان بصری علامتوں پر غور کریں کہ آگے بڑھنے کی خواہش میں چلتا ہوا ایک مرد ہے، اور اس کے قدموں سے گمان لپٹے ہوئے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان گمانوں نے مصور کے ہاں نسوانی روپ کیوں دھارا ہے؟ شاعر کے ہاں گمان کی صورت میں ایک غیر متعین معنیٰ ہے جو خود اس کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے یا وہ بس ماضی اور خود اپنے گمانوں ہی پر چل رہا ہے۔ لیکن مصور نے پس منظر کی ٹیکسچر کے ساتھ گوندھ کر گمان کو ایک مسلسل ذہنی الجھن اور جذباتی تہہ داری کی صورت دے دی ہے۔ عورتیں یہاں فرد کی دبی ہوئی یادوں، نا آسودہ خواہشات اور نامکمل تجربات کی نمائندہ ہیں جو آگے بڑھنے کے عمل کو ایک غیر مرئی بوجھ میں بدل دیتی ہیں، اور دیکھنے والے کو فرائیڈ کے جنسی لاشعور سے متعارف کرا دیتی ہیں۔ میرے لے یہ پینٹنگ صرف ایک شعر کی تفسیر نہیں بلکہ ایک وجودی مکالمہ ہے۔
مصور نے دیکھنے کے عمل کو خود ایک موضوع بنا دیا
یہ پینٹنگ فرخ یار کی نظم کے ٹکڑے پر مبنی ہے۔ اگر ہم اس کے عمومی خاکے اور کمپوزیشن پر نگاہ دوڑائیں تو یہ عمودی (vertical) ہے، یعنی کینوس کا محور اوپر سے نیچے تک ایک مرکزی سمبالک لائن تشکیل دیتا ہے۔ اوپر شعری پٹّی اور بیچ میں عورت کی فگر، نیچے بڑا کانپتا ہوا آنکھ نما چہرہ۔ یہ عمودی تقسیم دیکھنے والے کی نگاہ کو پہلے اوپر متن کی طرف، پھر عورت کی شکل کی طرف اور آخر میں آنکھوں کی طرف لے جاتی ہے یعنی ترتیب یوں بنتی ہے کہ متن پھر خیال یا خواب اور پھر لاشعور۔ دیکھا جائے تو اس کا توازن بنیادی طور پر سینٹرڈ ہے مگر بصری وزن نیچے کی طرف زیادہ پڑتا ہے، یعنی آنکھیں، جن سے تصویر کی معنویت کا مرکز نیچے مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہ ایک شعوری فیصلہ ہے کہ لاشعور/نگاہ کو معنوی مرکز بنایا گیا ہے، کیوں کہ بہ ہر حال اس پینٹنگ کی ابتدا مصور کے ذہن میں اس وقت ہوتی ہے جب وہ نظم کے ایک ٹکڑے کا انتخاب کرتا ہے۔
عورت کی شبیہ فگریٹیو ابسٹرکشن پر مبنی ہے یعنی شناخت ہو سکتی ہے لیکن تفصیل غائب ہے، خطوط میں زاویائی موڑ اور رنگوں میں کنٹراسٹنگ ہارمنی ہے جس سے عورت کی ’’صورت‘‘ نہیں بلکہ اس کی ’’حالت‘‘ مجسم ہوتی ہے۔ تاثراتی تجرید سے جڑے اس فگر میں جسمانیت ایک نفسیاتی یا داخلی علامت میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آنکھیں بڑی، نمایاں اور نسبتاً ریئلسٹک ہیں جو بصری مرکزیت اور نگاہ کے موضوع کو واضح کرتی ہیں، لیکن یہ مکمل چہرہ نہیں بلکہ ٹوٹا ہوئے ایک تاثر کی طرح ہے۔ جیسے شعور کے کسی بکھرے ہوئے لمحے میں صرف نگاہ باقی رہ گئی ہو۔ برش کے چھوٹے، بے قاعدہ اور موٹے اسٹروکس رنگ کی سطح پر impasto جیسی کیفیت پیدا کرتے ہیں، جس سے جلد کی ساخت پتھریلی اور تجرباتی محسوس ہوتی ہے۔ اس فنی رویے میں واضح طور پر ایکسپریشنزم کی داخلی تپش جھلک رہی ہے، چہرہ بکھرا ہوا ہے مگر نظر مرکوز ہے، گویا مصور نے دیکھنے کے عمل کو خود ایک موضوع بنا دیا ہو۔ عورت کی فگر بالکل آنکھوں کے اوپر کھڑی ہے جو علامتی طور پر یہ بتاتی ہے کہ عورت (یا گمان/خواہش) براہِ راست نگاہ/لاشعور کے اوپر کھڑی ہے۔
اس پینٹنگ میں برش ورک کی یکسانیت واضح جھلکتی ہے مگر یہ سطح پر ایک ذہنی کیفیت پیدا کر رہی ہے، اس میں تین واضح روایتی اثرات جھلک رہے ہیں: فگریٹیو ایبسٹرکشن کے تحت جسم کو سادہ اشکال میں توڑا گیا ہے، نیو ایکسپریشنسٹ لمس کے تحت رنگوں کی جذباتی شدت اور اسٹرکچرل برش ورک کے ساتھ نریٹو کا ایک نجی رنگ نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چہرے کی سطح پر ایک لطیف سی کیوبسٹ فریگمنٹیشن کی جھلک ہے مگر یہ صرف جذباتی کشیدگی بڑھانے کے لیے ہے، کوبزم ہرگز نہیں۔
ایک برباد شدہ شے اور ناگزیر زوال کی علامت
شاعر اور ناول نگار اختر رضا سلیمی کی ایک نظم کے بے حد خوب صورت ٹکڑے کو بھی وصی حیدر نے اپنے میں ڈھال کر نئی معنویت ابھاری ہے۔ اگر معنوی سطح پر دیکھیں تو کینوس پر دونوں ڈھانچے محض انسانی باقیات نہیں بلکہ ایک بوسیدہ یاد، ایک برباد شدہ شے اور ایک ناگزیر زوال کی علامت محسوس ہوتے ہیں۔ اور یہ صورتِ حال پس منظر کے سورج نما دائرے اور ٹوٹی دیواروں کے ساتھ مل کر ایک سنجیدہ اور ناسٹلجک مگر زہریلا ماحول بناتی ہے۔
ڈھانچوں کے فگرز کثیر سطحی انداز میں پینٹ کیے گئے ہیں، یعنی مصور نے جسم اور چہرے کو ایک ہموار سطح کے طور پر نہیں دکھایا بلکہ اسے چھوٹی چھوٹی سطحوں، درزوں اور شگافوں میں توڑ کر بنایا ہے۔ اس طرح ہر حصّہ جیسے کہ چہرہ، کندھے یا سینہ ایک مکمل حجم کی بجائے ٹوٹے ہوئے تختوں یا زاویوں کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس تقسیم نے انسانی جسم کے تسلسل کو توڑ کر اسے خردبینی سطحوں میں بانٹ دیا ہے، جس سے ڈھانچے میں اندرونی کھنڈرات یا شکستگی کا احساس ابھرتا ہے، جسے نظم کائی زدہ ہڈیاں کہتی ہے۔ مصور کا فن یہ ہے کہ ان کا فوکس جسم کو ظاہر کرنے سے زیادہ اس کے بکھرنے یا وقت کے ہاتھوں تحلیل ہونے کو ظاہر کرتا ہے، اور ایک بکھرا ہوا، اور پُرشور جسم کا احساس ابھرتا ہے۔ اس پینٹنگ کی یہ فنی گہرائی ہی معنوی تاثر کی ضمانت بن رہی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصور کا مقصود فگر سے زیادہ اس کی معنویت ابھارنے پر مرکوز ہے، اور اس کے لیے اس نے چھوٹے، بار بار دہرائے جانے والے اسٹروکس کا استعمال کر کے سطح کو کرکرہ اور ریت نما بنایا ہے۔ اسی طرح بوسیدگی کو پوری طرح ظاہر کرنے کے لیے گہرے سیاہ لائن ورک سے کام لیا گیا ہے اور بعض جگہوں پر رنگ کی موٹائی سے جمی کائی کا احساس ابھارا گیا ہے۔ لیکن شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کام پینٹنگ سے کہیں زیادہ مجسمہ یا کندہ کاری کی مانند دکھائی دیتا ہے، یعنی پینٹنگ میں ایک طرح کی جسمانیت (physicality) پیدا ہو گئی ہے۔ قدیم معبدوں یا عمارتوں کی دیواروں پر آپ نے ابھار کی صورت میں شکلیں یا مجسمے دیکھے ہوں گے، جو دیوار پر ابھار کی شکل میں بنائے جاتے ہیں، اسے مجسمہ سازی کی اصطلاح میں ریلیف کہتے ہیں۔ یہاں مصور نے جس طرح اس فن پارے میں ٹیکسچر سے کام لیا ہے یہ بالکل اُسی ریلیف کی طرح کی سطح ابھرتی محسوس ہوتی ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے مصور نے امپیسٹو تکنیک سے کسی شے کو تراشا ہو۔ اس آرٹ ورک میں رنگوں سے اتنی زیادہ معنی کاری کی گئی ہے کہ رنگ لمسی (tactile) محسوس ہونے لگے ہیں۔
وصی حیدر کے ہاں نیو ایکسپریشنزم کی تکنیک اپنا ایک منفرد حوالہ رکھتی ہے۔ ان کا فن محض احساس کی واپسی ہی پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک قدم آگے بڑھ کر لمس کے احساس کو بھی زندہ کر دیتا ہے اور فن پارے کو وجودی شدت کے ایک منفرد مؤقف کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اس لیے میں جب بھی ان کے فن پاروں پر سرسری نگاہ بھی ڈالتا ہوں مجھے دقیانوسی روایات کے ایک پیکج کے طور پر سماج کو مسترد کرنے کا رویہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ کینوس پر موٹے برش اسٹروکس اور زوردار رنگوں میں ایک قسم کا جارحانہ احساس اور جذبات کی وابستگی جھلکتی ہے جیسے مصور اپنے احساسات کو پینٹنگ کے جسم پر کھود رہا ہو۔ ان کے کام میں موضوعات تو کئی سارے ملتے ہیں لیکن میری نگاہ جس موضوع پر بہت زیادہ آ کر رک جاتی ہے وہ ہے وجودی بے چینی۔ اسی وجودی بے چینی کے اظہار میں وصی کا جمالیاتی رویہ مستور ملتا ہے اور یہی ان کی نظریاتی بنیاد بھی ہے۔
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔






