The news is by your side.

Advertisement

وادیِ اذیت اور دنیا دار

صبر کرنے والے اس مقام سے آشنا کرا دیے جاتے ہیں کہ تکلیف دینے والا ہی صبر کی توفیق دے رہا ہے اور اس مقام پر “صبر“ ہی “شکر“ کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔

یہ وجہ ہے کہ اس کے مقرب اذیت سے تو گزرتے ہیں، لیکن بیزاری سے کبھی نہیں گزرتے۔ وہ شکر کرتے ہوئے وادیِ اذیت سے گزر جاتے ہیں۔

دنیا دار جس مقام پر بیزار ہوتا ہے، مومن اس مقام پر صبر کرتا ہے اور مومن جس مقام پر صبر کرتا ہے، مقرب اس مقام پر شکر کرتا ہے، کیوں کہ یہی مقام و وصالِ حق کا مقام ہے۔
تمام واصلینِ حق صبر کی وادیوں سے بہ تسلیم و رضا گزر کر سجدہ شکر تک پہنچے۔ یہی انسان کی رفعت ہے۔

یہی شانِ عبودیت ہے کہ انسان کا وجود تیروں سے چھلنی ہو، دل یادوں سے زخمی ہو اور درِ نیاز سجدہ میں ہو کہ “اے خالق! تیرا شکر ہے، لاکھ بار شکر ہے کہ تُو ہے کہ تُو نے مجھے چن لیا، اپنا بندہ بنایا، اپنا اور صرف اپنا، تیری طرف سے آنے والے ہر حال پر ہم راضی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہم اور ہماری زندگی بے مصرف اور بے مقصد نہ رہنے دینے والا تُو ہے جس نے ہمیں تاج تسلیم و رضا پہنا کر اہلِ دنیا کے لیے ہمارے صبر کا ذکر ہی باعثِ تسکین روح و دل بنایا۔“

(واصف علی واصف کی کتاب “دل، دریا، سمندر سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں