The news is by your side.

Advertisement

فطرت الگ، منزل جدا….

ایک دفعہ ایک گدھ اور شاہین بلند پرواز ہو گئےـ بلندی پر ہوا میں تیرنے لگے۔ وہ دونوں ایک جیسے ہی نظر آ رہے تھے۔

اپنی بلندیوں پر مست، زمین سے بے نیاز، آسمان سے بے خبر، بس مصروفِ پروازـ دیکھنے والے بڑے حیران ہوئے کہ یہ دونوں ہم فطرت نہیں، ہم پرواز کیسے ہو گئے؟

شاہین نے گدھ سے کہا، “دیکھو! اس دنیا میں ذوقِ پرواز کے علاوہ اور کوئی بات قابلِ غور نہیں۔”

گدھ نے بھی تکلفاً کہہ دیا۔ “ہاں مجھے بھی پرواز عزیز ہے۔ میرے پَر بھی بلند پروازی کے لیے مجھے ملے ہیں۔” لیکن کچھ ہی لمحوں بعد گدھ نے نیچے دیکھا۔ اسے دور ایک مرا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ اس نے شاہین سے کہا، “جہنم میں گئی تمہاری بلند پروازی اور بلند نگاہی، مجھے میری منزل پکار رہی ہے۔” اتنا کہہ کر گدھ نے ایک لمبا غوطہ لگایا اور اپنی منزلِ مردار پر آ گرا۔

فطرت الگ الگ تھی، منزل الگ الگ رہی۔ ہم سفر آدمی اگر ہم فطرت نہ ہو تو ساتھ کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔

انسانوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ فطرت اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔ جو کمینہ(پست اور تنگ نظر) ہے وہ کمینہ ہی ہے، خواہ وہ کسی مقام و مرتبہ میں ہو۔

میاں محمّد صاحبؒ کا ایک مشہور شعر ہے:
نیچاں دی اشنائی کولوں کسے نئیں پھل پایا
ککر تے انگور چڑھایا، ہر گچھا زخمایا

(ترجمہ و مفہوم: کم ظرف یا پست ذہنیت انسان کی دوستی کبھی کوئی پھل نہیں دیتی جس طرح کیکر پر انگور کی بیل چڑھانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر گچھا زخمی ہو جاتا ہے)

(واصف علی واصف کے افکار)

Comments

یہ بھی پڑھیں