The news is by your side.

Advertisement

وسیم اکرم سے بد تمیزی کا معاملہ، مانچسٹر ایئر پورٹ انتظامیہ کا نوٹس

مانچسٹر: برطانوی شہر مانچسٹر کے ایئر پورٹ پر پاکستان کے لے جنڈ کرکٹر وسیم اکرم کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آیا، ٹویٹر پر شکایت کے بعد ایئر پورٹ انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق مانچسٹر ایئر پورٹ پر سابق قومی ٹیم کپتان وسیم اکرم کے ساتھ ایئر پورٹ حکام نے بد تمیزی کی، سابق کرکٹر نے ٹویٹر پر واقعے سے متعلق اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ حکام نے انسولین سے متعلق برا رویہ اپنایا۔

سوئنگ کے سلطان مانچسٹر ایئر پورٹ حکام پر برس پڑے، ایئر پورٹ پر انسولین روکے جانے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’دنیا بھر میں سفر کرتا ہوں، کبھی کسی نے نہیں روکا۔

وسیم اکرم نے ٹویٹ میں لکھا کہ مانچسٹر ایئر پورٹ حکام نے میرے ساتھ بد تمیزی کی، مجھے کہا گیا انسولین نکال کر پلاسٹک بیگ میں ڈال دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یوٹیوب گولڈن بٹن کا اعزاز ملنے کے بعد شعیب اختر کا بڑا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بھر میں سفر کرتے رہتے ہیں، انھیں کبھی اس طرح پریشان نہیں کیا گیا، لیکن مانچسٹر ایئر پورٹ حکام کے رویے سے سخت مایوس ہوئے ہیں۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں سخت بے عزتی محسوس ہوئی، حکام نے سب کے سامنے نہایت بد تہذیبی سے پوچھ گچھ کی اور حکم دیا کہ میں اپنی انسولین کو ٹھنڈے سفری بیگ سے نکال کر ایک پلاسٹک بیگ میں ڈال دوں۔

خیال رہے کہ سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم 1997 سے ذیابطیس کے مریض ہیں اور باقاعدگی سے انسولین استعمال کرتے ہیں۔

ایئر پورٹ انتظامیہ کا نوٹس

وسیم اکرم سے بد تمیزی کے معاملے پر مانچسٹر ایئر پورٹ انتظامیہ نے ٹویٹر پر ان کی شکایت کا نوٹس لے لیا، ایئر پورٹ انتظامیہ نے وسیم اکرم سے تفصیلات طلب کر لیں، انتظامیہ نے کہا کہ وسیم اکرم واقعے سے متعلق براہ راست آگاہ کریں۔

لے جنڈ کرکٹر وسیم اکرم کے ٹویٹ پر مانچسٹر ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے ریپلائی میں کہا گیا کہ آپ نے اس مسئلے کی طرف ہماری توجہ دلائی جس کے لیے شکرگزار ہیں۔

جس پر وسیم اکرم نے بھی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا فوری رد عمل کے لیے شکریہ، میں آپ کے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔

قبل ازیں وسیم اکرم نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ میرے ساتھ دوسروں سے مختلف رویہ کیسے رکھا جا سکتا ہے، تمام لوگوں کے ساتھ ڈیلنگ کرتے ہوئے ایک معیاری رویہ اپنایا جانا چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کی بے عزتی کی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں