پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ کھانا ضائع کرنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں ہر شخص اوسطاً 122 کلو گرام سے زائد کھانا ضائع کرتا ہے، یہ خوراک فی کس بنیادوں پر سالانہ ملکی معیشت پر پڑنے والا 4 ارب ڈالر سے زیادہ کا بوجھ ہے۔
پاکستان میں ہرشخص سالانہ ایک سو بائیس کے جی خوراک ضائع کرتا ہے جو سالانہ تقریبآ 36 ملین ٹن بنتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں بھارت میں سالانہ فی کس 54 کلو گرام اور چین میں اوسطآ 76 کلو گرام خوراک ضائع کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا بھر میں خوراک کے مجموعی ضیاع کے حوالے سے چوتھا جب کہ فی کس سالانہ بنیادوں پر دوسرے نمبر پر ہوتا ہے، اس فہرست میں پہلے نمبر پر مصر کا نام ہے۔
بنیادی سہولتوں سے محروم شہر میں مستعدی سے ٹریفک چالان گھر پہنچ جاتے ہیں
پاکستان میں ایک طرف قریب 30 فی صد ملکی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے، تو دوسری طرف خوراک کا مجموعی ضیاع تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے خوراک کے ضیاع میں انفرادی طور پر لوگوں کی لاپرواہی، ناقص انفرااسٹرکچر، فوڈ اسٹوریج کی سہولیات کا فقدان، نقل و حمل اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔


