ہانگ کانگ میں لینڈنگ کے دوران کارگو طیارہ پھسل کرسمندر میں جا گرا، ہولناک حادثے میں دو گراؤنڈ اسٹاف اہلکار جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق دبئی سے آنے والا کارگو طیارہ پیر کی صبح ہانگ کانگ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران جیسے ہی رَن وے پر اترا تو اچانک توازن بگڑ گیا۔
جس کے نتیجے میں ، چنگاریاں بھڑکیں اور لمحوں میں طیارہ سمندر میں جا گِرا، ہولناک حادثے میں دو گراؤنڈ اسٹاف اہلکار زندگی کی بازی ہار گئے۔
حادثے کے دوران طیارہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا اور اس کے عملے کے چار ارکان دروازہ توڑ کر باہر نکلے تاہم تفتیش کار اب سمندر سے طیارے کے بلیک باکسز کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثے کے وقت رن وے آپریشن کے لیے بالکل محفوظ حالت میں تھا تاہم حادثے کے بعد شمالی رن وے کو بند کر دیا گیا ہے اور اسے حفاظتی جائزہ کے بعد ہی دوبارہ کھولا جائے گا۔
ائیرپورٹ اتھارٹی ہانگ کانگ نے بتایا کہ حادثہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے پیش آیا، جب ترکی کی ایئر کارگو کمپنی ACT Airlines کا بوئنگ 747 طیارہ، جو Emirates کی جانب سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، لینڈنگ کے دوران توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ طیارہ اچانک بائیں جانب مڑا، سیکیورٹی پٹرول کار سے ٹکرا گیا اور دونوں سمندر میں جا گرے۔
ائیرپورٹ اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیون یو کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی گاڑی اپنی معمول کی گشت پر تھی اور رن وے میں داخل نہیں ہوئی تھی، حادثے کی وجوہات میں موسم، رن وے کی حالت اور طیارے کے فنی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ائیر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے لینڈنگ سے قبل کوئی تکنیکی مسئلہ رپورٹ نہیں کیا، ہانگ کانگ ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن اتھارٹی کے سربراہ مین کا چائی نے تصدیق کی کہ طیارے نے شمالی رن وے پر لینڈ کیا تھا مگر کوئی مدد کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
حادثے کے بعد لی گئی تصاویر میں طیارہ سمندر میں جزوی طور پر ڈوبا ہوا دکھائی دیا، جس کے اگلے اور پچھلے حصے الگ ہو چکے تھے۔
Emirates نے تصدیق کی کہ حادثے کے وقت طیارے پر کوئی کارگو موجود نہیں تھا اور تمام عملہ محفوظ ہے، بوئنگ 747 طیارہ 32 سال پرانا تھا اور مسافر طیارے سے فریٹر میں تبدیل کیا گیا تھا۔
یہ ہانگ کانگ کے ائیرپورٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ ہے، جو گزشتہ 25 برسوں میں پیش آیا۔ آخری بڑا حادثہ 1999 میں ہوا تھا جب چائنا ائیرلائنز کا طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا تھا جس میں تین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




