The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا: بچوں‌ کی باقیات ملنے پر شدید احتجاج، ملکہ وکٹوریہ اور الزبتھ دوم کے مجسمے زمیں بوس

اوٹاوا: کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پُرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے معاملے پر  سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے ریلی نکالی۔

وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔

ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔

ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد ’نسل کشی پر فخر نہیں‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اُس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں: کینیڈا میں اسکول سے مزید 182 بچوں کی لاشیں برآمد

واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزار قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں