The news is by your side.

’جب وسیم اکرم کا باؤنسر سر ویوین رچرڈ کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا‘

جب ورلڈ سیریز 1988 میں قومی ٹیم کے سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا خطرناک باؤنسر سر ویوین رچرڈ کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سر ویوین رچرڈ بیٹنگ کررہے ہیں جبکہ وسیم اکرم نے انہیں باؤنسر کرائی جو وہ کھیل نہیں سکے بعدازاں انہوں نے اعتراف کیا کہ ’ان کے باؤنسر کے بعد ریٹائرمنٹ لینے کا سوچا تھا۔

43 اوورز کے میچ میں ویسٹ انڈیز نے تین وکٹوں کے نقصان پر 230 رنز بنائے تھے جبکہ ویوین رچرڈ بیٹنگ پر موجود تھے۔

وسیم اکرم نے ایک تیز باؤنسر کرایا جسے سر ویوین رچرڈ نہ کھیل سکے اور بمشکل اپنے آپ کو گیند لگنے سے بچاسکے اور ۔گیند سیدھی وکٹ کیپر سلیم یوسف کے گلوز میں چلی گئی۔

امپائر کی جانب اسے نوبال قرار دیا گیا (کیونکہ اس وقت باؤنسر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور یہ نوبال کہلاتی تھی۔‘

میچ میں ڈیزمونڈ ہینز نے شاندار 101 رنز کی اننگز کھیلی تھی انہیں سابق کپتان عمران خان نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا تھا۔

ای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے لیجنڈ بیٹر نے اعتراف کیا کہ ’اس وقت میں نے وسیم اکرم کی تیز ترین بولنگ کا سامنا کیا اور یہ میرے لیے ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب باؤنسر نہ کھیل سکا تو میں نے کہا "واہ، واہ”، وسیم نوجوان تھا اور میں ریٹائرمنٹ کی جانب جارہا تھا، مجھے خوشی ہوئی کہ جب وہ آرہا تھا تو میں ریٹائرمنٹ کی طرف جارہا تھا۔

سر ویوین رچرڈ نے اس کے بعد 34 مزید ون ڈے میچز کھیلے اور مئی 1991 کو ریٹائر ہوئے۔

واضح رہے کہ سر ویوین رچرڈ پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مینٹور ہیں جبکہ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم ’کراچی کنگز‘ سے وابستہ ہیں اور اے اسپورٹس کے پروگرام ’دی پویلین‘ میں بھی اپنے شاندر تجزیے پیش کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں