site
stats
سندھ

وفاق نے رقم نہ دی تب بھی کے فور مکمل کریں گے، جام خان شورو

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے موجودہ سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات سندھ تمام وسائل کو بروئے کار لارہپے ہیں، حب ڈیم سے 100 ملین گیلن روزانہ پانی کی مشینوں کے ذریعے فراہمی تاریخی اقدام ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس منصوبے پر کام نہیں کیا گیا ہے۔

وہ پیر کو حب ڈیم پر45 ایم جی ڈی پانی مشینوں سے پانی نکال کر فراہم کرنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کررہےتھے۔ تقریب میں ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد، پی ڈی واپڈا عمر طارق کھوسو، چیف انجنئیرز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وزیر بلدیات نے حب ڈیم میں پانی کی سطح اور یہاں لگائی جانے والی مشینوں کے حوالے سے مکمل بریفنگ لی اور بعد ازاں مشینوں کو آن کرکے باقاعدہ 45 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔

انہوں نے کہا کہ 29 کلومیٹر کے فاصلے سے حب ڈیم سے حب کے پمپنگ اسٹیشن اور بعد ازاں اسے ڈسٹرکٹ ویسٹ تک عوام تک پانی کی فراہمی کو آسان بنا دیا گیا ہے، کے فور منصوبے پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ منصوبہ انشاء اللہ آئندہ دوسال کے اندر اندر مکمل ہوجائے گا، جس سے کراچی کو روزانہ 260 ایم جی ڈی زائد پانی فراہم ہوسکے گا اور اگر اس میں وفاقی حکومت نے اپنے حصے کی رقم نہ بھی دی تو سندھ حکومت اس منصوبے کے پہلے فیز کو ہر حال میں مکمل کرلے گی۔ پانی چور مافیا کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے اور پہلی بار ان چوروں کے خلاف 14-A کے تحت ایف آئی آر کا اندراج کرایا گیا ہے، ہم کراچی کے صنعت کاروں کو پانی کی فراہمی چاہتے ہیں لیکن کسی کو بھی پانی چوری کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی، ناجائز کنکشنز اور پانی چوری میں اگر واٹر بورڈ کا عملہ بھی ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف بھی قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اپنے خطاب انہوں نے کہا کہ آج سے قبل حب ڈیم سے کراچی کو 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی نہری نظام اور گریجویٹی کے ذریعے کی جارہی تھی تاہم جب بھی ڈیم میں پانی کی سطح میں کمی ہوجاتی شہر میں پانی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوجاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے ڈیزل جنریٹرز کی مدد سے پہلے مرحلے میں 45 ایم جی ڈی جبکہ آئندہ 2 ہفتوں کے اندر اندر 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا جس سے ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقوں بالخصوص بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن اور دیگر علاقوں کو پانی کی فراہمی ممکن ہوجائے گی اور حب ڈیم میں پانی کی قلت کے باعث نارتھ کراچی کے پمپنگ اسٹیشن سے ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کے باعث نارتھ کراچی سے پانی کے ناغہ سسٹم کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ موجودہ سندھ حکومت کراچی میں پانی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے تمام تر اقدامات کو بروئے کار لارہی ہے اور اس سلسلے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر مشینری کی تبدیلی، 100 اور 65 ایم جی ڈی پانی کی زائد فراہمی کے منصوبوں پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ K-4 منصوبے پر بھی کام شروع ہوگیا ہے اور ایف ڈبلیو او کے تحت یہ منصوبہ آئندہ دو سال کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے K-4 منصوبے کے لیے فنڈز بھی جاری کردئیے ہیں تاہم ابھی تک وفاق کی جانب سے اس پر فنڈز جاری نہیں کئے گئے لیکن اگر وفاق نے یہ فنڈز جاری نہ کیے تو بھی سندھ حکومت اس منصوبے کے 260 ایم جی ڈی کے پہلے فیز کو ہر صورت مکمل کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں منصوبہ بندی کے ساتھ سب سوائل واٹر کے نام پر بڑے پیمانے پر پانی کی چوری کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں اور اس آپریشن کے بعد لیاری، ڈسٹرکٹ ساؤتھ، کلفٹن اور ڈیفنس میں پانی کی فراہمی دگنی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پانی چوروں کے خلاف پہلی بار 14-A کے تحت ایف آئی آر کا اندراج کرایا گیا ہے، جس کے تحت ملزمان کی ضمانت نہیں ہوسکے گی اور اس کی سزا بھی 10 سال ہے،دوسرے مرحلے میں غیر قانونی کنکشن اور دیگر پانی چوروں کے خلاف بھی آپریشن کی ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایات دے دی گئی ہیں اور اگر اس میں واٹر بورڈ کا عملہ ملوث ہوا تو ان کے خلاف بھی قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ صنعت کاروں کے احتجاج کے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم صنعتوں کو پانی فراہم کرنا چاہتے ہیں اور وہ واٹر بورڈ سے قانونی طور پر پانی حاصل کریں لیکن کسی کو بھی ہم سب سوائل واٹر کے نام پر پانی کی چوری کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔

خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے کہا کہ آج واٹر بورڈ کی انتظامیہ صوبائی حکومت اور بالخصوص وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کی تہہ دل سے مشکور ہے کہ ان کی کاوشوں سے حب ڈیم سے پانی کی فراہمی پمپنگ مشینوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم واپڈا کے بھی مشکور ہیں کہ ان کی تکنیکی معاونت اور ہمیں 10 چھوٹے پمپنگ اسٹیشنوں کے لیے بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے،حب ڈیم پر 45 ایم جی ڈی پانی کی پمپنگ کا آغاز کردیا گیا ہے اور آئندہ ایک ہفتہ میں مزید 45 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی جبکہ 15 روز میں دیگر 10 مشینوں کی تنصیب کے بعد 100 ایم جی ڈی یومیہ پانی کی کراچی کو سپلائی شروع کردی جائے گی۔

مصباح فرید نے کہا کہ وزیر بلدیات کی کاوشوں سے سندھ حکومت نے واٹر بورڈ کو1 ارب 55 کروڑ روپے کی ایک گرانٹ جبکہ دھابیجی پر مشینوں کی تبدیلی کے لیے 200 ملین کی علیحدہ گرانٹ فراہم کی علاوہ ازیں کے ای کو بل کی ادائیگی کے لیے 13 کروڑ روپے اور فری واٹر ٹینکر سروس پر آنے والے اخراجات کے بقایا 14 کروڑ روپے کی ادائیگی کردی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے پر تقریباً 28 سے 30 کروڑ کی لاگت آئی ہے، جس کو بھی سندھ حکومت نے ادا کیا ہے،واٹر بورڈ انتظامیہ وزیر بلدیات کی ہدایات پر دن رات کوشاں ہے اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے۔ اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر واپڈا اور چیف انجنئیر واٹر بورڈ نے بھی منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top