The news is by your side.

Advertisement

پانی گھبراہٹ سے نجات کا ضامن! مگر کیسے؟

گھبراہٹ (انزائٹی) ایک عام انسانی احساس ہے جس پر قابو نہ پایا جائے تو آنے والی زندگی میں مشکلات و تکالیف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

آسٹریلوی ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ صرف آسٹریلیا میں ہی 32 لاکھ افراد کو انزائٹی یا گھبراہٹ سے منسلک مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور حالیہ برسوں میں 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں ان مسائل کی شرح بڑھی ہے۔

طبی حکام نے گھبراہٹ یا انزائٹی سے بچنے کا نسخہ پانی کو قرار دیا ہے جس کے استعمال میں اضافہ مشکلات کو آسان کردیتا ہے کیوں کہ پانی اور ہائیڈریشن گھبراہٹ کی علامات کی روک تھام یا ان کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پانی یہ فوائد طبی شواہد سے ثابت ہوچکے ہیں۔

پانی کیوں مفید ہے؟

طبی تحقیق سے ثابت ہے کہ جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں منفی جذبات جیسے غصہ، چڑچڑے پن، الجھن اور تناؤ کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کے احساس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پانی کی معمولی کمی سے بھی لوگوں میں گھبراہٹ اور تھکاوٹ جیسے احساسات بڑھ گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ روزمرہ زندگی میں زیادہ پانی پیتے ہیں وہ زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 5 یا اس سے زیادہ کپ پانی پینے سے ڈپریشن اور گھبراہٹ کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دن بھر میں 2 کب سے کم پانی پینے والوں میں یہ خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے۔

ناقص نیند گھبراہٹ کی علامات کی شدت کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

دماغ پر اثرات:

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ 75 فیصد پانی پر مبنی ہے، اسی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن دماغی توانائی کو کم کردیتا ہے اور ساخت میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے، جس کے باعث دماغی فعالیت سستی کا شکار ہوجاتی ہے اور دماغی خلیات اپنے افعال انجام نہیں دے پاتے۔

درحقیقت پانی کی معمولی کمی سے بھی جسم میں تناؤ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے جو متعدد ذہنی عوارض بشمول گھبراہٹ میں کردار ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹر کب رجوع کریں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی مقدار میں اضافے، اچھی غذا، جسمانی سرگرمیوں اور مناسب نیند سے لوگوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن اگر پانی کا کم استعمال مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی طرح دیگر عناصر بھی گھبراہٹ اور انزائٹی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو بہت زیادہ گھبراہٹ محسوس ہوتی ہو تو اسے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں