The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں ہاتھ دھونے میں اضافے سے پانی کی قلت، واٹر بورڈ کی عجیب منطق

کراچی: ایم ڈی واٹر بورڈ کراچی نے شہر میں پانی کی قلت کی عجیب و غریب منطق بیان کر دی ہے، اسد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہاتھ دھونے میں اضافے کی وجہ سے پانی زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان نے کراچی میں پانی کی قلت کے مسئلے پر تبصرہ کیا کہ اس وقت کراچی کے لیے 45 فی صد پانی دستیاب ہے، ہاتھ دھونے میں اضافے کے باعث پانی زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ کرونا وبا شروع ہوتے ہی ڈاکٹرز اور ماہرین نے عوام کو جو سب پہلی ہدایت جاری کی تھی وہ یہ تھی کہ بار بار صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ کرونا وائرس ہاتھوں کے ذریعے منہ یا ناک تک نہ پہنچ سکے۔

لاک ڈاؤن کے باعث کراچی میں پانی کی قلت کی حقیقت سے پردہ ہٹ گیا

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ گرمی کی شدت میں کمی سے کراچی میں پانی کی قلت میں بھی کمی آ جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کے سلسلے میں جلد ان کی وفاقی وزیر فیصل واوڈا سے ملاقات متوقع ہے، شہر میں صرف 7 ہائیڈرینٹس قانونی طور پر کام کر رہے ہیں، غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف کارروائی کے لیے تفصیلات بھی دے چکا ہوں۔

خیال رہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوران جب فیکٹریاں بند ہو گئی تھیں تو پاک کالونی، ریکسر، پرانا گولیمار، بلدیہ اور لیاری کے وہ علاقے جہاں برسوں سے پانی نہیں آ رہا تھا، پانی وافر مقدار میں آنا شروع ہوا۔ اے آر وائی نیوز نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ان علاقوں کے مکینوں کا پانی فیکٹریوں کو فروخت کیا جا رہا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں