رائے پور (13 مئی 2026): بھارت میں تربوز کھانے کے بعد ایک اور ہلاکت نے تشویش پیدا کر دی ہے، ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جنجگیر چامپا کے گاؤں دھورکوٹ میں 12 سالہ لڑکا ہلاک ہو گیا۔
مذکورہ خاندان کے 3 دیگر بچوں کو فوڈ پوائزننگ کے شبے میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، یہ واقعہ دو ہفتے قبل ممبئی میں تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی ہلاکت کے بعد پیش آیا ہے۔
ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت اکھلیش دھیور کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق چاروں بچوں نے اتوار کی شام تربوز کھایا تھا، جس کے بعد رات گئے چکن کا کھانا بھی کھایا۔
پیر کے روز چند گھنٹوں کے اندر چاروں بھائیوں کی طبیعت خراب ہو گئی، اکھلیش کو پیٹ میں شدید درد، قے اور متعدد بار اسہال کی شکایت ہوئی۔
تربوز کھانے سے لڑکی کی موت، چند دنوں میں شادی ہونے والی تھی
گھر والے ابتدا میں بچے کی گھر پر ہی دیکھ بھال کرتے رہے، تاہم اگلی صبح اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ بچے کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس بلائی گئی، لیکن اکھلیش راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
دیگر تین بچوں، بھوپیندر دھیور، ہیمیش دھیور اور شری دھیور کو جنجگیر کے ضلعی اسپتال منتقل کر کے علاج کے لیے داخل کر لیا گیا۔ ضلعی اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اقبال حسین نے تصدیق کی کہ اکھلیش کو اسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی موت ہو گئی۔
ڈاکٹر اقبال حسین کے مطابق دیگر تینوں بچے اسپتال میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، جب کہ ہلاک ہونے والے بچے کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے، موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہو سکے گی۔
بریانی کے بعد تربوز کھانے سے فیملی کے 4 افراد کی موت، حقیقت سامنے آگئی
طبی ماہرین کے مطابق تربوز جیسے پھل خود خطرناک نہیں ہوتے، تاہم کیڑے مار ادویات یا مصنوعی طریقے سے پکانے کے باعث ان میں زہریلا اثر پیدا ہو سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ فوڈ پوائزننگ کی وجہ جنجگیر مارکیٹ سے خریدے گئے پھل تھے یا بعد میں کھایا جانے والا کھانا۔ واقعے کی مکمل وجوہ جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


