The news is by your side.

Advertisement

بڑھتی مہنگائی، تنخواہ دار طبقہ بچت کس طرح کریں؟

تنخواہ دار طبقہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر محدود معاشی حالات میں ماہانہ آمدنی میں بچت کیسے کرسکتا ہے؟ آج کل کے حالات میں یہ ایک بہت بڑاسوال ہے۔

عربی میگزین ’سیدتی‘ نے تنخواہ دار طبقے کی سہولت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر محدود معاشی حالات میں ماہانہ آمدنی میں بچت کے چند طریقے بیان کیے ہیں جن پرعمل کر کے اخراجات کو پورے کرتے ہوئے بچت بھی کی جا سکتی ہےـ

اخراجات اور بچت

تنخواہ دار طبقے کو یہ چاہیے کہ وہ مہینے کے آغاز میں ہی بجٹ مرتب کریں اور اس پر سختی سے عمل کریں، بجٹ مرتب کرنے کے لیے روایتی طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے یا اپنے ذاتی کمپیوٹر میں بھی اس کا چارٹ بنایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ اسمارٹ فون پر کوئی ایسی ایپ انسٹال کی جا سکتی ہے جو بجٹنگ میں معاون ثابت ہو۔

الغرض جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے اس کا مقصد آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کرنا ہے تاہم انہیں ضبط تحریر کرنے کا مقصد محض یاد رکھنا ہے کہ رقم کہاں اور کتنی خرچ ہوئی۔

بجٹ مرتب کرتے وقت سب سے پہلے اہم اور بڑے اخراجات درج کیے جائیں جن میں گھر کا کرایہ، نقل و حمل کے اخراجات، راشن، اسکول فیس، یوٹیلٹی بلز کے علاوہ ہنگامی حالت میں استعمال ہونے والی رقم جو کسی بھی اچانک ضرورت پڑنے پر استعمال کی جا سکےـ

ماہانہ بجٹ مرتب کرنے کا مقصد اخراجات اور آمدن میں توازن پیدا کرنا ہے کیونکہ بیشتر افراد اس بات سے لاعلم رہ جاتے ہیں کہ تنخواہ کہاں خرچ ہوئی؟، تحریری بجٹ ہونے کی صورت میں یہ بات سامنے ہوگی کہ رقم کہاں اور کس طرح خرچ ہوئی؟ جس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آئندہ اضافی اور فالتو اخراجات پرقابو پایا جاسکے گاـ

بچت کے لیے ایک اہم طریقہ یہ بھی ہے کہ بینک میں دوسرا فکسڈ اکاؤنٹ کھولا جائے جو محدود مدت کے لیے مخصوص سیونگ اکاؤنٹ (ایسا اکاؤنٹ جس میں محدود مدت کے لیے رقم جمع کرائی جائے مگر نکالنے کے لیے مقررہ وقت کی پابندی ہو) میں ماہانہ بنیاد پر کچھ نہ کچھ رقم پس انداز کرنے کی غرض سے جمع کی جائے مگر اس اکاؤنٹ میں جمع کی جانے والی رقم خرچ نہ کی جائے۔

بچت کے طریقے

ماہانہ آمدنی میں بچت کرنے کے متعدد طریقے ہیں جن پرعمل کر کے ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی رقم پس انداز بھی کی جا سکتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ درج ذیل اہم نکات کو مدنظر رکھا جائےـ

گھر کے کچن کے لیے ضروری اشیا خریدنے سے قبل متعدد سپر مارکیٹس میں لگائی گئی آفرز کو دیکھیں اور ضرورت کی اشیا کی فہرست مرتب کر لی جائے جس مارکیٹ میں قیمت کم ہو وہاں سے خریداری کریں۔کہیں سفر کا پروگرام ہو تو وقت مقررہ سے کافی عرصہ قبل ٹکٹ خریدیں کیونکہ پہلے سے ٹکٹ خریدنے سے بچت کی جاسکتی ہے، جبکہ عین وقت پرایئر لائنز کے ٹکٹ مہنگے ہو جاتے ہیں۔

بجلی کے بل میں بچت کرنے کے لیے گھر کے روایتی بلب تبدیل کر کے ’ایل ای ڈیز‘ لگائیں اور ایسی الیکٹرانک اشیا خریدیں جو ماحول دوست ہوں۔

بجلی کی مصنوعات جن میں ٹی وی، کمپیوٹرز، موبائل فون کے چارجر جب استعمال نہ ہو رہے ہوں تو انہیں بجلی کے کنکشن سے نکال دیں کیونکہ استعمال نہ ہونے اور بجلی کے پلگ میں لگے ہونے کی صورت میں یونٹس استعمال ہوتے ہیں اور بل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جو کہ اگرچہ بہت کم ہوتا ہے تاہم بجٹ پر کافی اثرانداز ہوتا ہے ـ

Comments

یہ بھی پڑھیں