The news is by your side.

Advertisement

اسکولوں میں فائرنگ: کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں؟

واشنگٹن: گزشتہ کچھ عرصے میں امریکا کے مختلف اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک بھر میں گن کلچر کے خلاف پرزور احتجاج کیا جارہا ہے تاہم انتظامیہ اس پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

سماجی و سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کو دیکھتے ہوئے نہ صرف انفرادی طور پر بچاؤ کی کوششیں کرنا ضروری ہیں بلکہ کچھ احتیاطی تدابیر بھی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ حادثے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو سکے۔

مزید پڑھیں: فلوریڈا کے ہائی اسکول میں فائرنگ، 17 افراد ہلاک

ان کےمطابق ایسے حادثات کی شدت کو کم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں۔


ملزم کا نام لینے سے گریز

امریکی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ابتدا میں ہونے والے واقعات کے بعد جب ٹی وی اور اخبارات میں ملزم کا نام آنا شروع ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے فوراً بعد ہی اسی نوعیت کے دیگر واقعات بھی پیش آئے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ٹی وی اور اخبارات پر ملزم کا نام آنا ممکنہ طور پر ایک وجہ ہوسکتی ہے جو شہرت کے حصول کے خواہش مند کسی عام سے طالب علم کو مجرم بنا سکتی ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تجاویز کے بعد سی این این سمیت متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلز نے فیصلہ کیا کہ وہ ملزم کا نام اور اور تصویر شائع نہیں کریں گے، اس کی جگہ وہ متاثرین کے بارے میں آگاہ کرنے کو ترجیح دیں گے۔


اساتذہ کو مسلح کرنا

اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کو دیکھتے ہوئے تجویز دی جارہی ہے کہ ہر اسکول میں منتخب استادوں کو مسلح کیا جائے اور انہیں ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دی جائے۔

ایک امریکی فائر آرم ایسوسی ایشن کے مطابق اسکول میں کسی مسلح شخص کے گھس آنے کی صورت میں پولیس کو وہاں پہنچنے کے لیے بھی کم سے کم جتنا وقت درکار ہے، اتنی دیر میں مسلح شخص ایک برسٹ میں بے شمار طالب علموں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اساتذہ کو مسلح کرنے کا بل منظور

اس کے برعکس اسکول کے اندر موجود تربیت یافتہ ہتھیار سے لیس استاد انتہائی کم وقت میں مسلح شخص کے سر پر پہنچ کر قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔

ایسوسی ایشن کی تجویز ہے کہ استادوں کو ہتھیار چلانے کے ساتھ فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی دی جائے تاکہ وہ زخمی ہونے والے طالب علموں کی بھی فوری مدد کرسکیں۔


کلاس روم میں دو دروازے

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق باقاعدہ ارادے کے تحت اسکول کے اندر گھسنے والا مسلح شخص ایسی جگہ کو ٹارگٹ کرتا ہے جو چھوٹی ہو اور وہاں موجود افراد کے لیے چھپنے کی جگہ نہ ہو۔

فلوریڈا میں واقع ایک اسکول کے استاد کے مطابق جب ان کے اسکول میں مسلح حملہ آور گھس آیا تو ایک کلاس روم میں موجود دوسرے دروازے نے نہ صرف طالب علموں کو کلاس سے باہر نکلنے میں مدد دی بلکہ حملہ آور کی توجہ بھی بھٹکائی۔

مزید پڑھیں: امریکی طلبہ گن حملوں کا جواب پتھر سے دیں گے

ماہرین نے بھی ہر کلاس روم میں دو دروازے رکھنے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔


پریشان افراد سے اسلحہ واپس لے لینا

اسکولوں میں ہونے والی فائرنگ کے واقعات میں ملزم زیادہ تر ایسے تھے جو دماغی طور پر پریشان یا نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی شخص میں کسی دماغی الجھن کی تشخیص ہو تو ایسے شخص سے فوری طور پر اسلحہ واپس لے کر اس کے اسلحے کا لائسنس منسوخ کردیا جائے، قبل اس کے کہ وہ ذہنی مریض کسی بڑے حادثے کا ذمہ دار بن جائے۔


ایئرپورٹ طرز کی سیکیورٹی

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ اسکولوں میں بھی سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ایئر پورٹ طرز کی سیکیورٹی اپنائی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے داخلی دورازوں پر میٹل ڈیٹیکٹر لگانا کسی بڑے حادثے کو روکنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔


دوسری ترمیم کی منسوخی

امریکا میں گن رکھنے والے افراد کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ سنہ 1791 میں امریکی آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم کے مطابق امریکیوں کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔

تاہم اب امریکی شہری اس ترمیم کی منسوخی چاہتے ہیں۔

آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کانگریس کی جانب سے اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب دونوں ایوانوں کے ایک تہائی ارکان اس کے حق میں ہوں۔ بعد ازاں ترمیم کی منظوری کے لیے ایک تہائی ریاستوں کی حمایت بھی ضروری ہے۔

امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے کسی بھی قسم کے اقدمات اس وقت تک غیر مؤثر رہیں گے جب تک لوگوں کو آئین کے تحت خطرناک ہتھیار خریدنے کی آزادی حاصل ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیار رکھنے سے متعلق دوسری ترمیم منسوخ کر بھی دی جائے تب بھی ملک سے اسلحہ ختم نہیں ہوجائے گا، بس یہ غیر قانونی قرار پائے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں