The news is by your side.

Advertisement

ہم جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف ہیں: گورنر پنجاب کا ٹویٹ

لاہور: گورنر پنجاب چوہدری سرور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جبری مذہبی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق چوہدری سرور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔

گورنر پنجاب نے دو ہندو لڑکیوں کی جبری مذہبی تبدیلی کے واقعے پر پڑوسی ملک کے پروپیگنڈے پر متنبہ کیا کہ بھارت ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

خیال رہے کہ ہندو برادری کے ہولی کے مذہبی تہوار پر گھوٹکی سے دو ہندو لڑکیوں رینہ اور روینہ کو اغوا کر کے زبردستی مسلمان کرایا گیا، وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو سندھ سے رحیم یار خان منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا

دوسری جانب بچیوں کے اہل خانہ نے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر عدم تعاون کا الزام بھی لگایا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں ایک خاتون سمیت 7 افراد گرفتار ہیں۔

ادھر پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن انچیف اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لڑکیوں کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور ملو ث افراد کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

واضح رہے کہ کم عمر ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں انھیں کلمہ پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں