ہم کچرے سے زمین پر نئی تہہ بچھا رہے ہیں؟ -
The news is by your side.

Advertisement

ہم کچرے سے زمین پر نئی تہہ بچھا رہے ہیں؟

دنیا بھر میں کچرے کی وجہ سے آلودگی اور گندگی میں اضافہ اور کچرے کو تلف کرنا ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور یہ اس قدر خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے کہ ہماری زمین پر کچرے کی نئی تہہ بچھتی جارہی ہے۔

ارتھ فیوچر نامی جریدے میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے کے مطابق ہم انسانوں کا پھینکا ہوا کچرا ایک نئی ارضیاتی تہہ تشکیل دے رہا ہے یعنی زمین پر ایک غیر فطری اور گندگی سے بھرپور تہہ بچھا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ارضیاتی تہہ اس وقت تشکیل پاتی ہے جب کسی زمانے میں کسی بڑی آفت یا معدومی کی صورت وہاں موجود تمام جاندار بشمول جانور اور نباتات ختم ہوجائیں، اور ان کے اجسام پر وقت کے ساتھ مٹی کی تہیں جمتی جائیں تو ہزاروں لاکھوں سال بعد وہ پورا دور زمین پر ایک نئی تہہ کی صورت میں اس کا حصہ بن جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: اشیا کو زمین کا حصہ بننے کے لیے کتنا وقت درکار؟

اس تہہ کی بعد ازاں کھدائی بھی کی جاتی ہے جس میں سے آثار قدیمہ اور مختلف جانداروں کی باقیات برآمد ہوتی ہیں جس سے اس دور کے مطالعے میں مدد ملتی ہے۔

زیر نظر تصویر سے آپ کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کس طرح وقت کے مختلف دور اپنے خاتمے کے بعد ایک ارضیاتی تہہ کی صورت اختیار کر گئے۔ ان ادوار کو ہم مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے ہم انسان اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ سامان تیار کر رہے ہیں جو بالآخر پھینک دیا جاتا ہے اور یوں ہمارے دور کی ارضیاتی تہہ کچرے سے تشکیل پا رہی ہے۔

ہم جو کچھ بھی خریدتے ہیں ان میں سے 99 فیصد سامان 6 ماہ کے اندر پھینک دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چار سالوں کا کچرا ایک چھوٹے سے جار میں

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 2.12 ارب ٹن سامان کچرے کی صورت پھینک دیا جاتا ہے۔

گویا اب سے ہزاروں سال بعد کا انسان جب ہمارے دور کی باقیات دریافت کرنا چاہے گا تو اسے کچرے کی تہہ کھودنی پڑے گی تب جا کر وہ ہمارے موجودہ دور کے بارے میں جان سکے گا۔

کچرے کے نقصانات کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں