The news is by your side.

Advertisement

ہماری جنگ ایک مخصوص نظریے سے ہےجسے ہرصورت شکست دیں گے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگ ایک مخصوص نظریے سے ہے جسے پاکستان میں امن وامان پسند نہیں ہے۔

اسلام آباد میں آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں سول اورعسکری قیادت نے قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اجلاس کے حوالے سے پارلیمنٹ کواعتماد میں لیتے ہوئےوزیراعظم نے کہاکہ ہماری جنگ ایک مخصوص نظریے سے ہے ،اسی نظریے نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کیا ،صفوراگوٹھ میں اسماعیلی برادری کو نشانہ بنایا اور اے پی ایس میں ہمارے معصوم بچوں کو لہولہا ن کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ عالمی برادری کے سامنے اجاگر کررہا ہے اور کشمیریوں کے لیے عالمی حمایت کی راہ ہموار کررہا ہے اور یہ ان عوامل میں سے ایک ہے جس کے سبب ہمارےدشمن ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئٹہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا، پہلے بلال انورکاسی کو نشانہ بنایا گیا اوراس کے بعد جب وکلاء برادری جمع ہوئی تو دھماکہ کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گمراہ عناصر ہمارے دشمن ہوگئے ہیں ،ان سے پاکستان کو ترقی دیکھی نہیں جارہی ، یہ عناصرہمارے آئین ، عوام اور قومی سلامتی کے اداروں کے دشمن ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کے امکان سامنے آرہے ہیں بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری کے ثمرات دشمنوں کو پسند نہیں آرہے، یہ ذہن پاکستان بالخصوص بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری برداشت نہیں کرسکتا۔

نواز شریف نے اس امر پرزوردیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں متحد رہنے کی ضرورت ہے ، ہمارا اتحاد ہی شیطانی قوتوں کو منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے ادارے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ سرحدوں کے اندر زندگی کو محفوظ بنان ان کی ذمہ داری ہے اور وہ اسکے لیے سخت اقدامات اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔

آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پوری قوم کا ایجنڈا ہے جسے ہر صورت مکمل کیاجائے گا، مسلح افواج اور انٹلی جنس ادارے دن رات کام کررہے ہیں اور سینکڑوں منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں