site
stats
پاکستان

نئے آرمی چیف کے لیے دعا گو ہوں، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے نئے آرمی چیف کے لیے دعاگو ہوں، پاک فوج کے بہترین افسران کا انتخاب کیا گیا، ملک کو دہشت گردی اور سرحدی تناؤ کا سامنا ہے، تاہم قوم کو موجودہ اور نئی فوجی قیادت پر اعتماد ہے۔

آرمی چیف کے منتخب ہونے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پیشہ وارانہ امور میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ جنرل راحیل شریف کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی اور سرحدی تناؤ کا سامنا ہے تاہم  قوم حکومت او رافواج دشمن کے خلاف اکھٹی ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین برس کے مقابلے میں اب ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے ، پاک فوج کے بہترین افسر کا انتخاب کیا گیا، فوج کی موجودہ قیادت پر بھی اعتماد تھا اور نئی قیادت پر بھی اعتماد ہے۔


پڑھیں: ’’ جنرل قمرباجوہ آرمی چیف اورجنرل زبیرحیات چیئرمین جوائنٹ چیفس مقرر ‘‘


علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وزیراعظم کے ویژن کو آگے لے جانا بہت ضروری ہے، موجودہ پالیسیوں کا تسلسل بہت ضروری ہے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے نئے آرمی چیف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نئے آرمی چیف کو کامیاب کرے اور ذمہ داریاں نبھانے میں آسانیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ نازک صورتحال میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے تاہم یہ ملک کے لیے خوش آئند ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’پاکستان بہت سے مسائل میں گہرا ہوا ہے مگر امید ہے کہ نئے آرمی چیف ملک کو سیکیورٹی مسائل سے نکال لیں گے‘‘۔

مزید پڑھیں: ’’ نئے آرمی چیف کی تقرری، نوازشریف کے لیے ایک اور اعزاز ‘‘


دوسری جانب امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے نئے آرمی چیف بھارتی  اشتعال انگیزی کاموثر جواب دیں گے جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ قمر باجوہ اچھے جنرل ہیں اور ٹین کور کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

نئے آرمی چیف کے تقرر پر سیاستدانوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’قمر باجوہ ملک وقوم کی بھلائی میں جنرل راحیل شریف جیسے ہی اقدامات اٹھائیں گے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top