site
stats
پاکستان

ٹرمپ کی دھمکیوں‌ پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے، عمران خان

بنی گالا: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر نئے وزیر اعظم نے امریکا کو جواب کیوں نہیں دیا؟ فوج اور سویلین ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوجائے، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر امریکا کو سخت جواب دیا جائے۔

بنی گالا میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنے ملک و قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ہم پر امریکی الزام لگا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں، جس ملک نے قربانیاں دی ہیں اسی پر الزام؟

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کیا کہ آپ کو اس خطے کی معلومات ہی نہیں ہے، پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے پاکستان پر اتنے الزامات عائد کیے، ہندوستان کو خطے میں ٹھیکے دار ی کا رول دیا لیکن حکومت خاموش رہی جب کہ چین نے باضابطہ بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس جنگ میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، ہم نے ہمیشہ سے کہا تھا کہ اس جنگ میں شرکت نہیں کرو، اس جنگ میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، کتنے زخمی ہوئے اور ایسے کتنے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں، ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے اربوں ڈالر دیے لیکن حکومت کا اعدادو شمار ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کا 100 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، ملک میں تباہی مچی، قبائلی علاقے سے 70فیصد لوگوں نے نقل مکانی کی اور ابھی تک واپس نہیں جاسکے، ان کا گھر، مویشی کاروبار سب تباہ ہوگیا اس کا اندازہ کوئی نہیں لگاسکتا کہ کتنا نقصان ہوا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ اس جنگ میں فوج کی قربانیاں الگ ہیں، اس پر بھی اگر ہم یہ سنیں کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ دیں تو ہم پر کیا بیتے گی؟ اور ہندوستان جس کا کوئی کردار نہیں اس کی تعریف ہوری ہے ؟اور ٹرمپ ہندوستان کی زبان بول رہا ہے جو انڈیا کا موقف تھا وہ ٹرمپ دہرا رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جو امریکا کی ناکامیاں ہیں ٹرمپ نے وہ ساری ذمہ داری پاکستان پر عائد کردی، ڈیڑھ لاکھ نیٹو کی فورس تھی، ایک ہزار ارب ڈالر انہوں نے وہاں خرچ کردیا، ہزاروں افغانی شہید کردیے ، ان کے پاس انٹیلی جنس تھی، ڈرون طیارے تھے وہ نیٹو فوج قابو نہیں پاسکی؟ کیا چند افراد جو پاکستانی سے وہاں پہنچ گئے ان کی وجہ سے امریکا وہاں کامیاب نہیں ہوا؟ اور اب مزید فوجی وہاں بلائے جارہے ہیں حالاں کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے انہیں پاکستان کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا کو سخت پیغام دیا جائے کہ یہ قوم ایک ہے، فوج اور سویلین ایک پلیٹ فارم پر آئیں، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے اور اس حساس معاملے کو اٹھایا جائے اور امریکا کو سخت جواب دیا جائے۔

سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ اس جنگ میں شامل ہونے کی پاکستان کو ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی افغانستان کی ساری نیٹو سپلائی پاکستان کے راستے گئی، جو ہندوستان اور افغانستان سے یہاں دہشت گردی ہوئی اس کا کوئی حساب نہیں اور جو ہندوستا ن افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی وہ کچھ نہیں؟ ہندوستان جو بلوچستان میں دہشت گردی کررہا ہے اس کے ثبوت بھی دیے لیکن پھر بھی اسی ہندوستان کو امریکا نے افغانستان کا ٹھیکے دار بنادیا؟

انہوں نے کہا کہ نئے وزیر اعظم نواز شریف کی فکر چھوڑ کر ملک پر توجہ دیں، اسرائیلی اور بھارتی لابی امریکا میں اکٹھا کام کرتی ہیں اس پر توجہ دی جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مہم چلائی جاری ہے، امریکا کا یہ کہنا کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام کہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں نہ لگ جائے یہ بھی ہمارے لیے ایک دھمکی ہے۔

انہوں نے ایران کی مثال دی کہ ساری دنیا نے انہیں دھمکی دی پابندی لگائی لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹا، حکومت اور عوام اگر ایک پلیٹ فارم پر آجائیں تو کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top