The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن میں نرمی اور عوامی سرگرمیاں: ایک آسان سا حل کرونا وائرس سے بچا سکتا ہے

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث شدید ترین معاشی نقصانات پہنچے ہیں اور کاروبار زندگی معطل ہوچکا ہے تاہم اب مختلف ممالک نے آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن اور کرفیو میں نرمی کرنا شروع کردی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی اور لوگوں کے باہر نکلنے کے بعد کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ ہے جیسا کہ جرمنی میں دیکھا جارہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سادہ سا طریقہ وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روک سکتا ہے۔

اور وہ آسان طریقہ ہے باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شہر کی 80 فیصد آبادی ماسک پہننے لگے تو کرونا وائرس کی شرح نیچے کی جانب جانے لگے گی۔

اس تحقیق میں گزشتہ وبائی امراض جیسے ایبولا اور سارس کے ماڈلز کے ساتھ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرنے پر تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ ماسک نہ پہننے والے افراد کو یہ وائرس کیسے اپنا نشانہ بناتا ہے۔

محققین کے مطابق فیس ماسک استعمال نہ کرنے پر انفیکشنز کی شرح بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے، اس کے مقابلے میں اگر 100 فیصد افراد ماسک پہننا شروع کردیں تو بیماری کی شرح گر کر صفر تک بھی جاسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صرف 30 سے 40 فیصد افراد فیس ماسک استعمال کر رہے ہیں تو یہ بے فائدہ ہے۔

مذکورہ تحقیق میں پیشگوئی کرنے والا کمپیوٹر ماڈل تیار کیا گیا ہے جسے ماسک سم سمولیٹر کا نام دیا گیا ، جس سے انہیں مختلف ممالک کے منظرنامے تشکیل دینے میں مدد ملی۔

اس سے پتہ چلا کہ فیس ماسک کا استعمال بہت زیادہ کرنے والے ممالک میں سماجی دوری اختیار کرنے کے ساتھ کرونا وائرس کے کیسز کی شرح کو قابو پانے میں مدد ملی جبکہ اس سے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور لوگوں کو گھروں سے باہر جانے کا موقع بھی ملے گا۔

ماہرین کے مطابق منہ کو ڈھانپنا ایسی رکاوٹ کا کام کرتا ہے جو آپ کو اور دیگر افراد کو وائرل اور بیکٹیریل ذرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ بیشتر افراد لاعلمی میں دیگر افراد کو بیمار کردیتے ہیں یا کھانسی یا چیزوں کو چھو کر جراثیم پھیلا دیتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں