(28 جنوری 2026): رمضان المبارک کی آمد میں صرف تین ہفتے باقی ہیں ماہ مقدس میں موسم کیسا ہوگا اس حوالے سے اہم پیشگوئی سامنے آئی ہے۔
اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جب کہ مسلمان ماہ مقدس رمضان المبارک کا انتظار کر رہے ہیں، جس کی آمد میں صرف تین ہفتے رہ گئے ہیں۔ اس ماہ میں موسم کیسا ہوگا، ماہرین فلکیات نے پیشگوئی کر دی ہے۔
سعودی عرب میں رمضان کے دوران موسمِ سرما کی ٹھنڈک اور بہار کے ابتدائی اعتدال کا ایک دلکش امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔ یہ ایک ایسا عبوری مرحلہ ہوگا جس میں موسم ایک غیر معمولی انداز میں آپس میں گتھم گتھا نظر آئیں گے۔
ماہرِ فلکیات ڈاکٹر خالد الزعاق کے مطابق خطہ عرب کے باشندے رمضان کا استقبال سرد موسم میں کریں گے اور ابتدائی رمضان میں سحر اور افطار میں موسم ٹھنڈا ہوگا جب کہ اختتام پر موسم بہار کا استقبال کرتے ہوئے نکھرنے لگا۔
رمضان کے اختتامی ایام میں موسم نہ مکمل سرد ہوگا اور نہ ہی گرمی کا آغاز ہوگا۔ یہ موسم بہار ہوگا جو درختوں کے نئے پیرہن کے ساتھ کے ساتھ سردی کی رخصت اور گرمی کی آمد کا پیغام لے کر آتا ہے۔
قومی مرکز برائے موسمیات نے پیش گوئی کی ہے رمضان المبارک کے دوران نجران، ریاض، القصیم، حائل اور شمالی سرحدی علاقوں کے بعض حصوں میں گرد و غبار اٹھانے والی تیز ہوائیں چلتی رہیں گی، جس کے باعث بعض مقامات پر حدِ نگاہ متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح موسمی رپورٹ میں جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ مکرمہ کے پہاڑی علاقوں کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رات اور صبح سویرے کے اوقات میں دھند بننے کی بھی توقع ہے، جس میں مشرقی ساحلی علاقے بھی شامل ہیں۔
ماہرین فلکیات نے پاکستان کے میدانی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے موسم کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم بالائی شمالی علاقوں میں پورا رمضان سردی میں گزرنے کا امکان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


