The news is by your side.

Advertisement

پانی سے وزن کم کرنے کے طریقے

یوں تو وزن کم کرنے کے بے شمار طریقے ہیں جو بعض اوقات حیران کن طور پر وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، تو بعض اوقات بالکل ہی بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

دراصل وزن کم کرنے کے لیے صرف کھانے کی مقدار کو ہی کم کرنا کافی نہیں۔ اس کے لیے جسم کو متحرک رکھنا اور باقاعدگی سے ورزشیں کرنا ضروری ہیں۔

ویسے کیا آپ جانتے ہیں پانی بھی وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے؟

اگر پانی کو مخصوص اوقات میں مخصوص مقدار کے ساتھ لیا جائے تو یہ جسم پر نہایت حیرت انگیز نتائج مرتب کرتا ہے۔

آئیں آج جانیں کہ پانی وزن کم کرنے میں کیسے مددگار ہوسکتا ہے۔


کھانے سے قبل پانی

ہر کھانے سے قبل ایک سے آدھا گلاس پانی پینا آپ کی بھوک کو کم کردیتا ہے۔ یہ آپ کے خالی پیٹ کو سیر ہونے کا احساس دلاتا ہے جس کے باعث آپ کم کھاتے ہیں۔

اگر آپ پانی پیئے بغیر کھانا کھانے بیٹھ گئے تو عین ممکن ہے کہ آپ اپنی بھوک سے بھی زیادہ کھا لیں جو وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔


کتنے گلاس پانی؟

ایک عام خیال ہے کہ ہر شخص کے لیے 8 گلاس پانی پینا ضروری ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہر شخص کے جسم پر منحصر ہے کہ اسے کتنا پانی درکار ہے۔

جو افراد سخت محنت کا کام اور سخت ورزشیں کرتے ہیں ان کے جسم کو 8 گلاس سے کہیں زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پانی جسم میں خون کے بہاؤ کو فعال رکھتا ہے جس کی وجہ سے جسم اضافی چربی بنانے سے محفوظ رہتا ہے۔


ٹھنڈے پانی کا جادو

کیا آپ جانتے ہیں سرد پانی آپ کے جسم کی کیلیوریز کو ضائع کرنے یا جلانے میں مدد دیتا ہے۔

جسم کے لیے موزوں سرد پانی وزن کم کرنے کے لیے نہایت مفید ہے۔


پانی والی غذائی اشیا

ایسے پھل اور سبزیاں جن میں پانی کی وافر مقدر موجود ہو موٹاپے کا شکار افراد کے لیے فائدہ مند ہیں۔

یہ غذائی اجزا جسم کی بھوک و پیاس کی کمی کو بھی پورا کرتی ہیں جبکہ یہ جسم میں اضافی کیلیوریز کی نشونما کو بھی روکتی ہیں۔

پانی والی غذائیں جلدی ہضم ہوجاتی ہیں اور یہ ہاضمے پر بوجھ بھی نہیں بنتی۔


پانی کے ذائقے

اب چونکہ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ پانی وزن کم کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے تو پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور اس میں مختلف ذائقے شامل کریں۔

مختلف جوسز وغیرہ اس ضمن میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے پانی کا سب سے بہترین فلیور سبز چائے ہے جو دن میں کم سے کم 2 بار ضرور استعمال کرنی چاہیئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں