site
stats
صحت

ڈیجیٹل دور میں ڈیجیٹل بیماریوں کو خوش آمدید کہیئے

کیا آپ جانتے ہیں ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل اور ٹیبلٹس ہمیں ڈیجیٹل بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی دین ان اشیا کی جلتی بجھتی اسکرین ہماری صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے اس کے باوجود ہم ان چیزوں کے ساتھ  بے تحاشہ وقت گزار رہے ہیں جو آگے چل کر بے شمار مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی نوجوان 11 گھنٹوں سے زائد وقت اپنے موبائل اسکرین کے ساتھ گزارتے ہیں۔ برطانیہ میں 12 سال سے کم عمر بچوں کا 6 سے ساڑھے 6 گھنٹے کا وقت مختلف اسکرینز جن میں موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ شامل ہیں کے ساتھ گزرتا ہے۔

مستقل روشن یہ اسکرین ہماری آنکھوں پر نہایت خطرناک اثر ڈالتی ہیں اور یہ نظر کی دھندلاہٹ، آنکھوں کا خشک ہونا، گردن اور کمر میں درد اور سر درد کا سبب بنتی ہیں۔ ان بیماریوں کو ماہرین نے ڈیجیٹل بیماریوں کا نام دیا ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور کی پیداوار ہیں۔

مزید پڑھیں: مستقبل میں کمپیوٹر اسکرین اور کی بورڈ کی ضرورت نہیں رہے گی

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل کی اسکرین نیلے رنگ کی ہوتی ہیں اور یہ دیگر تمام رنگوں سے زیادہ توانائی کی حامل ہوتی ہے۔ یہ نیلی اسکرینز زیادہ شدت سے ہماری آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ ہماری آنکھ کے پردے کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ہمیں ہمیشہ کے لیے نابینا کر سکتی ہے۔

اس اسکرین کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا دماغی کارکردگی کو بتدریج کم کردیتا ہے جبکہ یہ آپ کی نیند پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ آپ رات میں ایک پرسکون نیند سونے سے محروم ہوجاتے ہیں اور سونے کے دوران بار بار آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی نوجوانوں کی 65 فیصد تعداد ان تمام مسائل کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ ہمارے جسم کی بناوٹ فطرت سے مطابقت رکھنے والی ہے اور یہ ہرگز ایسی نہیں جو جدید دور کی آسائشوں سے مطابقت کر سکے۔

تو پھر اس کا حل کیا ہے؟

کمپیوٹر اور موبائل آج کل کے دور کی ضرورت بن چکے ہیں خاص طور پر دفاتر میں کمپیوٹر کے بغیر کام کرنے کا تصور ختم ہوچکا ہے۔

تاہم ماہرین کچھ احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں جنہیں اپنا کر ڈیجیٹل بیماریوں سے کسی حد تک تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کمپیوٹر کے مسلسل استعمال سے تھکی آنکھوں کا آسان حل

ماہرین کے مطابق سب سے پہلا اصول 20 ۔ 20 ۔ 20 کا ہے۔ اپنے کمپیوٹر کی اسکرین سے ہر 20 منٹ کے بعد 20 سیکنڈز کے لیے 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو دیکھیں۔

اپنی پلکوں کو بار بار جھپکائیں۔ بعض افراد کام میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ انہیں پلکیں جھپکانا یاد نہیں رہتیں۔ پلکیں نہ جھپکانے کی عادت سے آہستہ آہستہ آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں۔

کمپیوٹر کی اسکرین اور اپنے درمیان فاصلہ رکھیں۔

اپنے موبائل اور کمپیوٹر کی اسکرین کی برائٹ نیس کو کم کریں۔

ایسے چشمے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں جن میں ایسے آئینے لگے ہوں جو الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روک کر انہیں واپس بھیج دیں اور آنکھوں کی طرف نہ جانے دیں۔ اس طرح کے چشمے بازار میں عام دستیاب ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top