اردو میں صحافت اور ادب کی ایک صنف فکاہیہ نگاری بہت مقبول رہی ہے، جس میں قلم کار شگفتہ انداز میں سیاسی، سماجی موضوع پر یا فن و ثقافت اور روایت کے کسی پہلو پر تبصرہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد قاری کو صرف ہنسانا نہیں ہوتا بلکہ شگفتہ انداز میں سنجیدہ مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔ اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں ابنِ انشاء، چراغ حسن حسرت، ابراہیم جلیس، مشفق خواجہ جیسے بڑے قلم کار اور مصنّف گزرے ہیں جنھوں نے طنز و مزاح لکھا اور ان کے فکاہیہ کالم بھی بہت مقبول ہوئے۔ نصراللہ خان بھی فن و ادب کی دنیا کی اسی کہکشاں کا حصّہ تھے اور بطور فکاہیہ نگار ہر خاص و عام میں یکساں مقبول تھے۔
نصراللہ خان کئی مشہور اخبارات و رسائل سے بطور کالم نگار وابستہ رہے۔ انھوں نے ڈرامہ بھی لکھا اور شخصی خاکوں کے ساتھ ادبی تبصرہ نگاری بھی کی۔ ان کے مضامین بھی اکثر ادبی صفحات کے زینت بنتے تھے جو دراصل ان کی یادوں اور تذکروں پر مبنی ہوتے تھے۔ نصر اللہ خان کا ایک وصفِ تحریر ان کی شگفتگی اور روانی تھی۔ انھیں صاحبِ اسلوب کالم نگار کہا جاسکتا ہے۔ ممتاز ادیب و محقق اور نقاد مشفق خواجہ نے خان صاحب سے متعلق کہا تھا: وہ اس زمانے کے آدمی ہیں جب صحافی سیاسی جماعتوں یا سرکاری ایجنسیوں کے زر خرید نہیں ہوتے تھے۔ ان کے پاس ضمیر نام کی ایک چیز بھی ہوتی تھی۔
نصر اللہ خان نے تقریبا نصف صدی تک مشہور اخبارات میں کالم نگاری کی اور فکاہیہ نگاری کو اپنی پہچان بنایا۔ ان کے کالم "آداب عرض” کے عنوان سے باقاعدگی سے شایع ہوتے تھے۔ نصراللہ خان نے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے عہد ساز اخبار زمیندار سے اپنا سفر شروع کیا تھا اور انہی کے زیر سایہ نصر اللہ خان کی فکری اور قلمی تربیت ہوئی تھی۔ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد نصر اللہ خاں نے مختلف روزناموں مساوات، احسان، امروز نقش اور ہفت روزہ نمک دان سے جڑے۔ حرّیت کا آغاز ہوا تو باقاعدہ کالم نگار کی حیثیت سے منسلک ہو گئے، اس کے علاوہ روزنامہ جنگ اور ہفت روزہ تکبیر سے بھی بحیثیت کالم نگار وابستگی رہی۔ نصر اللہ خاں نے فکاہیہ کالموں میں اپنے دور کے کئی سیاسی، سماجی اور عام واقعات اور مسائل کو موضوع بنایا ہے جنھیں ایک قسم کی محفوظ تاریخ کہا جاسکتا ہے۔
نصر اللہ خان اپنی کالم نگاری سے متعلق لکھتے ہیں کہ جب وہ (۱۹) انیس برس کے ہوئے تو ایک دل چسپ واقعے نے کالم نگار نصر اللہ خان کو جنم دیا۔ مولانا عبد المجید سالک اپنے اخبار "انقلاب” میں افکار و حوادث کے نام سے بہت شگفتہ ادبی کالم لکھا کرتے تھے۔ لیکن اس پر ان کا نام نہیں جایا کرتا تھا۔ اتفاق سے کچھ عرصہ کسی وجہ سے ان کا وہ کالم نہ جاسکا تو ان کی جگہ میں نے بحیثیت طالب علم کالم لکھ کر بھجوا دیا اور ان سے کہا کہ آپ اصلاح کر کے اپنے کالم میں شائع کروا دیں گے تو میری حوصلہ افزائی ہوگی۔ آپ یقین کیجیے ایک ماہ تک تواتر سے میرا کالم شائع ہوتا رہا، البتہ سالک صاحب تھوڑی بہت اصلاح ضرور کر دیا کرتے، پھر جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی طالبِ علم آپ کو امرت سر سے کالم بھجوایا کرتا تھا؟ تو انھوں نے کہا کہ ہاں بہت اچھا لکھتا تھا، کون تھا وہ؟ جب میں نے بتایا کہ وہ میں تھا، تو بہت خوش ہوئے اور سب لوگوں کے سامنے اس کا اعتراف کیا۔
نصر اللہ خان 11 نومبر 1920ء کو جاؤرہ، مالوہ کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔ یہ ایک چھوٹی سی مسلمان ریاست تھی۔ بعد میں نصراللہ خان امرت سر چلے گئے۔ ان کے آبا و اجداد غیر منقسم ہندوستان میں صوبہ سرحد کے شہر پشاور کے رہنے والے تھے۔ ان کے دادا کی مادری زبان پشتو تھی اور پیشہ تجارت تھا۔ بعد ازاں وہ امرت سر میں آباد ہو گئے تھے۔ نصراللہ خان کے والد کا نام محمد عمر خان تھا جو تدریس سے وابستہ تھے اور ادب کا بھی شوق رکھتے تھے۔ نصراللہ خان نے باقاعدہ تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے ایم اے او (MAO) کالج امرتسر میں داخلہ لے لیا۔ پھر اجمیر سے بی اے اور بی ٹی کرنے کے بعد ناگپور یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تقسیم کے بعد 1949ء سے 1953ء کے دوران ریڈیو پاکستان کراچی میں پروڈیوسر رہے، بعد ازاں کالم نگاری شروع کی۔ 23 فروری 2002ء کو نصر اللہ خان امریکہ میں انتقال کرگئے تھے۔ وہ کئی سال سے وہاں مقیم تھے اور ان کی تدفین بھی وہیں کی گئی۔
خان صاحب نے ریڈیو کے زمانہ میں کئی چھوٹے بڑے آرٹسٹوں، مشہور فن کاروں، سیاست دانوں، علماء، اپنے عہد کی بلند قامت ادبی اور صحافتی شخصیات کو قریب سے دیکھا اور ان سے دوستی اور تعلقِ خاطر بھی رہا۔ ان مشاہیر سے ملاقاتوں کا احوال اور ان کی یادوں کو نصر اللہ خان نے شخصی خاکوں کی صورت میں ڈھالا اور اپنے دل کش اسلوب میں پیش کیا۔ ان کے شخصی خاکوں کی کتاب "کیا قافلہ جاتا ہے” کے نام سے بہت مقبول ہوئی۔ یہ نثری مجموعہ پہلی بار 1984ء میں شائع ہوا تھا۔ ان کے کالموں کا مجموعہ "بات سے بات”، ڈرامہ "لائٹ ہاؤس کے محافظ”، اور سوانح عمری "اک شخص مجھی سا تھا” کے نام سے شایع ہوئی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


