تل ابیب (23 اکتوبر 2025): ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ نے مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم کرنے کی منظوری دے دی۔
اسرائیل نے امن معاہدے کی آڑ میں مکروہ عزائم کی تکمیل تیز کر دی ہے، مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق غیر قانونی بل کے پہلے مرحلے کی اسرائیلی پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کی جماعت نے بل کی حمایت نہیں کی، تاہم اسرائیلی قانون سازوں نے 120 رکنی پارلیمنٹ میں 4 مراحل پر مشتمل بل کے پہلے مرحلے کی 24 کے مقابلے میں 25 ووٹوں سے منظوری دی۔ بل مزید غور کے لیے خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے پیوٹن سے ملاقات کی منسوخی کی وجہ بتا دی
یہ ووٹنگ اس وقت ہوئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کو ناکامی سے بچانے کے لیے اسرائیل کے دورے پر ہیں۔
یروشلم میں اسرائیلی کنیسے میں منظور شدہ بل کے تحت اسرائیلی قانون کو مقبوضہ مغربی کنارہ پر نافذ کیا جائے گا، یہ اقدام باضابطہ طور پر زمین کو ضم کرنے کے مترادف ہے، جسے فلسطینی اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لیے چاہتے ہیں۔
یہ ووٹ اس بل کی منظوری کے لیے درکار چار مراحل میں پہلا مرحلہ ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


