The news is by your side.

Advertisement

پشاور کی تاریخی گور گٹھڑی سے متعلق سیاحوں کے لیے خوش خبری

پشاور: شہر پشاور کے وسط میں واقع 379 سالہ قدیمی گور گٹھڑی کا مغربی دروازہ سیاحوں اور شہریوں کے لیے کھول دیا گیا۔

ڈھائی ہزار سال پرانے شہر پشاور میں ایک سے بڑھ کر ایک صدیوں پرانی عمارتیں آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں، جو مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے باعث کشش ہیں۔

گور گٹھڑی کا مغربی دروازہ موسمی حالات کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہونے کے سبب بند کر دیا گیا تھا، 2018 میں محکمہ آثار قدیمہ (آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ) نے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے کام آغاز کیا، اور 3 سال کی کٹھن محنت کے بعد اس دروازے کو اپنی اصلی حالت میں بحال کر کے کھول دیا ہے۔

پشاور کی تاریخی عمارتوں میں ایک گور گٹھڑی بھی ہے، اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ فصیل پشاور کے سب سے اونچے مقام پر گور گٹھڑی واقع ہے، گور گٹھڑی مغل بادشاہ شاہ جہان کی بیٹی جہاں آرا بیگم نے 1642 میں تعمیر کی تھی، جہاں آرا بیگم نے گور گٹھڑی میں ایک جامع مسجد اور 2 کنوئیں بھی بنائے، 1642 سے قبل بھی گور گٹھڑی میں مختلف ادوار میں سرگرمیاں جاری رہیں۔

مہا راجا رنجیت سنگھ نے 1838 میں جب اس شہر پر قبضہ کیا، تو اس وقت پشاور کے گورنر پولو اویٹا بائل (جس کو پشتو میں لوگ ابو ٹبیلہ کہتے تھے) نے گور گٹھڑی کو اپنی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا تھا۔

1838 سے 1842 تک پشاور شہر سکھوں کے قبضے میں رہا، اس کے بعد 1858 میں انگریز اس شہر پر قابض ہوئے، تو اس دور میں بھی گور گٹھڑی کو خاص اہمیت حاصل رہی، پاکستان بننے کے بعد یہ شہر پاکستان کا حصہ بنا، اور اب بھی روزانہ ہزاروں لوگ اس تاریخی اہمیت کی حامل جگہ کی سیر کے لیے آتے ہیں۔

عبدالصمد نے بتایا کہ گورگٹھڑی کا مغربی دروازہ 8 کمروں پر مشتمل ہے، محکمہ آرکیالوجی نے جرمنی کی حکومت کے تعاون سے 2 کروڑ روپے میں اس کی تزئین و آرائش مکمل کر کے اس کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا ہے۔

چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا کاظم نیاز نے بتایا کہ 2 سال پہلے جب وہ گور گٹھڑی آئے تھے، تو اس وقت اس تاریخی دروازے کی حالت ناگفتہ بہ تھی، لیکن آج دو سال بعد یہ دروازہ اصلی حالت میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

انھوں نے کہا پشاور شہر کی خوب صورتی کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مقامی لوگوں کو ساتھ ملا کر کسی بھی شعبے میں ترقی کی جا سکتی ہے، ہم سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، بین الاقوامی ٹورسٹ میپ پر پاکستان کی مثبت پہچان کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سال یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج ایوارڈ کے لیے گور گٹھڑی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تصاویر کریڈٹ: امین مشال، عامر خان

Comments

یہ بھی پڑھیں