The news is by your side.

Advertisement

روزہ کو مکروہ کرنے یا توڑنے والی چیزیں

ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کے دوران روزے کے حوالے سے کچھ سوالات و مسائل سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ روزے کو مکروہ کر سکتے ہیں یا توڑ سکتے ہیں۔

آج ہم ایسے ہی کچھ افعال و عوامل سے آگاہی حاصل کرنے جارہے ہیں جو روزہ کو توڑنے یا اسے مکروہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔


ناک سے خون بہنا

اگر کسی مخصوص صورتحال جیسے گرمی لگنے یا چوٹ لگنے کی صورت میں نکسیر پھوٹ جائے اور ناک سے خون بہنے لگے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

البتہ یاد رہے کہ یہ عمل بے اختیار ہونا چاہیئے اور قصداً کسی ایسی صورتحال میں شامل ہونا جیسے لڑائی یا جھگڑے جس میں چوٹ لگنے اور خون بہنے کا خدشہ ہو روزے کو توڑ سکتا ہے۔


دانتوں کی صفائی

روزہ کے دوران دانتوں کی صفائی کے لیے مسواک بہترین شے ہے۔

ٹوتھ پیسٹ کے بغیر بھی برش کیا جاسکتا ہے، البتہ علما ٹوتھ پیسٹ کے ساتھ دانت صاف کرنے سے گریز کی ہدایت کرتے ہیں کیونکہ ٹوتھ پیسٹ حلق میں جا کر روزے کو توڑ سکتا ہے۔


خون کا ٹیسٹ

کسی قسم کے طبی ٹیسٹ کے لیے خون کی معمولی مقدار کا جسم سے اخراج روزہ ٹوٹنے کا باعث نہیں۔ البتہ خون بہت زیادہ مقدار میں بہہ جائے، یا باقاعدہ کسی کو خون کی منتقلی کی جائے تب روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔


دانت نکلوانا

دانت کی تکلیف کی صورت میں اگر ہنگامی طور پر دانت نکلوانا پڑجائے تو یہ اس صورت میں جائز ہے جب مسوڑھے سے نکلنے والا خون ایک یا دو قطرے سے زائد نہ ہو۔


سرمہ لگانا

آنکھ میں سرمہ لگانا کسی بھی صورت میں نہ تو روزے کو مکروہ کرتا ہے اور نہ ہی اسے توڑنے کا سبب بنتا ہے۔


مائع خوشبویات کا استعمال

بغیر الکوحل کے مائع خوشبویات جیسے عطر وغیرہ بھی روزہ کے دوران بلا جھجھک استعمال کیے جاسکتے ہیں اور ان سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔


انہیلر کا استعمال

ناک میں انہیلر کا استعمال روزہ توڑنے کا باعث ہے۔ دمے کے مریض افراد ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر روزہ رکھنے سے گریز کریں۔


آنکھ یا کان میں دوا ٹپکانا

آنکھ یا کان میں کسی بھی قسم کی دوا ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ دوا حلق اور پھر پیٹ میں جا پہنچے گی۔


تیراکی

تیراکی کے دوران منہ کے ذریعے پانی جسم کے اندر جانے اور روزہ ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا ہے لہٰذا روزے کے دوران تیراکی سے گریز کیا جائے۔


لپ اسٹک یا نیل پالش کا استعمال

لپ اسٹک میں شامل مختلف ذائقہ جات منہ میں جانے کا سبب بن سکتے ہیں لہٰذا دوران روزہ لپ اسٹک کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

نیل پالش لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ یہ وضو کے دوران پانی کو ناخنوں کے اندر نہیں پہنچنے دیتا لہٰذا وضو کرنے سے قبل اسے صاف کرلینا ضروری ہے۔


روزے کو مکروہ کرنے والی اشیا

مندرجہ بالا افعال کے علاوہ مزید یہ چیزیں روزے کو مکروہ کرسکتی ہیں۔

بلا ضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا۔

جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی گلوچ کرنا یا کسی کو تکلیف دینا۔

پیاس کی حالت میں پانی کے غرارے کرنا کیونکہ اس صورت سے روزہ ضائع ہونے کا قوی امکان ہے۔


روزے کو توڑنے والی اشیا

قصداً منہ بھر قے کرنا، البتہ طبیعت کی خرابی سے خود بخود قے آجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

وضو کرتے وقت یا نہاتے وقت اگر غلطی سے پانی حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

کوئی ایسی چیز نگل جانا جو کھائی نہیں جاتی جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ۔

کسی خوشبو دار چیز، سگریٹ اور حقے کا دھواں ناک یا حلق میں پہنچنا۔

بھول کر کھا پی لینا پھر اس خیال سے کہ روزہ ٹوٹ گیا اور ارادتاً کھا پی لینا۔

انجیکشن لگوانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح صادق کے بعد کھایا پیا تھا یعنی صبح صادق ہوچکی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں