The news is by your side.

11 دن سمندر میں بھوکا پیاسا رہنے والے شخص پر کیا گزری؟

مچھلیوں کے شکار کیلیے جانے والا مچھیرا سمندر میں کشتی ڈوب جانے کے باعث فریزر میں 11 دن بھوکا پیاسا موت سے لڑتا رہا پھر اس پر کیا گزری جان کر حیران رہ جائیں گے۔

آپ نے وہ مثل تو سنی ہوگی کہ ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ یہ مثال ایسے وقت دی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی ایک مصیبت سے نکلتے ہی دوسری مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا ہے ایک برازیلی شہری کے ساتھ جو مچھلیاں پکڑنے سمندر کے سفر پر نکلا تو اسے پتہ نہ تھا کہ اس کا یہ سفر زندگی کا تکلیف دہ سفر ہوگا اور اس کے ساتھ اس دوران وہ کچھ ہوا جو اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔

غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق شمالی برازیل کا رہائشی روڈریگس نامی شخص مچھلیوں کے شکار کیلیے ایک چھوٹی کشتی کے ساتھ سمندر کے سفر پر نکلا تھا تاہم بحیر اوقیانوس میں ایک حادثے کے نتیجے میں اس کی کشتی ڈوب گئی اور اس نے کشتی میں موجود فریزر کو جائے پناہ بناتے ہوئے جان بچائی اوز اپنی زندگی کے 11 کٹھن ترین دن اس میں گزارے۔

روڈریکس کے لیے یہ دن کٹھن اس لیے تھے کہ وہ کھلے سمندر میں اکیلا ہونے کے ساتھ 11 دن تک بھوکا پیاسا رہا، ماہی گیر نے ایک غیر ملکی اخبار کو بتایا کہ اس وقت فریزر ہی اس کے لیے ایک سہارا تھا جہاں اس نے بغیر کچھ کھائے پیے 11 دن گزارے اور اس دوران سب سے زیادہ اسے پیاس نے پریشان کیا۔

اس دوران ماہی گیر کو شارک کے حملوں کا خطرہ بھی ڈراتا رہا، اس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کھلے سمندروں میں بہت خوفناک اور بڑی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

بالآخر 11 روز بعد اس کو بچایا گیا اور پولیس نے سمندر سے اسے ریسکیو کیا۔

اس حوالے سے روڈریکس کا کہنا ہے کہ میں فریزر پر تھا کہ مجھے اپنے قریب کچھ شور سا سنائی دیا میں نے اپنے بازو اٹھا کر انہیں مدد کیلیے پکارا، مجھے اس وقت بہت ہی دھندلا نظر آرہا تھا، میرے پکارنے پر وہ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے وہاں سے بحفاظت نکالا۔

ماہی گیر کو بچانے والی ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے کہ جب اس کو سمندر سے نکالا گیا تو وہ پانی کی شدید کمی کا شکار تھا اور 11 دن کی اذیتوں اس کی ذہنی حالت کو متاثر کیا تھا، وہ پھٹے ہوئے کپڑے سے کھیل رہا تھا، اسے سن اسٹروک بھی تھا اور وہ پانی کیلیے اتنا ترسا ہوا تھا کہ ریسکیو ہونے کے فوری بعد اس سے شراب پینے کی التجا کی۔

اس حوالے سے پولیس افسر لوئیس کارلوس پورٹو نے کہا، جب روڈریکس کو ریسکیو کیا گیا تو وہ بہت دبلا پتلا، کمزور تھا، جس پر کچھ زخموں کے نشانات بھی تھے تاہم مجموعی طور پر اس کی صحت بہتر تھی اور ضرورت سے زیادہ گرمی، نمکیات اور روشنی کے باعث اس کو واضح طور پر بینائی میں دشواری ہو رہی تھی۔

ماہی گیر کو ریسکیو کرکے اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی تاہم اس کی آزمائش ختم نہیں ہوئی تھی، اسے جنوبی امریکی ملک سورینام میں سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا جہاں رپورٹ کے مطابق اسے 16 دن قید میں گزارنے پڑے۔

بعد ازاں روڈریکس کو ایک پرواز کے ذریعے اس کے وطن شمالی برازیل بھیج دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں