The news is by your side.

Advertisement

تارکین وطن کی کشتی میں مرنے والے لڑکے کے ساتھ کیا کیا گیا؟

جزائر کیناری: اسپین کے امدادی کارکنوں نے سمندر میں پھنسی تارکین وطن کی کشتی میں سوار مسافروں کو بچا لیا تاہم امدادی کارکن پہنچنے سے قبل کشتی میں ایک سانحہ بھی ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپانوی امدادی کارکنوں کو جمعے کو اطلاع ملی کہ جزائر کیناری کے قریب سمندر میں ایک کشتی تند و تیز لہروں میں پھنسی ہوئی ہے، ریسکیو ورکرز نے جمعے کی رات کو کشتی سے 30 سے زائد تارکین وطن کو ریسکیو کیا۔

معلوم ہوا کہ تارکین وطن چھوٹی سی کشتی میں یورپ پہنچنے کے لیے خطرناک سمندری سفر پر نکلے تھے، اور پھر وہ تیز لہروں میں پھنس گئے، ان مسافروں کا تعلق مختلف ممالک سے تھا جو پناہ کی تلاش میں یورپ جا رہے تھے۔

مسافروں کی خوش قسمتی تھی کہ ریسکیو کو اتفاقاً ان کے بارے میں معلوم ہوا اور وہ بر وقت انھیں بچانے پہنچ گئے، کشتی گرینڈ کیناری آئی لینڈ سے تقریباﹰ 160 کلو میٹر (99 میل) جنوب کی طرف کھلے سمندر میں بے رحم موجوں کے رحم و کرم پر ڈول رہی تھی۔

معلوم ہوا کہ کشتی میں ایک 9 سالہ لڑکا بھی سوار تھا لیکن دوران سفر وہ شدید بیمار پڑ گیا اور پھر مر گیا، کشتی میں جگہ کم تھی اس لیے کشتی والوں نے فیصلہ کیا کہ لڑکے کی لاش کو سمندر میں پھینکا جائے، اور پھر انھوں نے اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے لڑکے کی لاش کو سمندر کے حوالے کر دیا۔

ریسکیو کے مطابق کشتی کے مسافروں میں 11 مرد تھے، 20 خواتین اور 3 کم عمر بچے، تمام مسافروں کی جسمانی حالت خراب تھی اور وہ انتہائی بے سرو سامانی کی حالت میں سفر پر نکلے تھے۔

اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق کیناری جزائر کا قریبی سمندر 500 سے زیادہ انسانوں کو نگل چکا ہے، جب کہ گزشتہ برس چھوٹی بڑی کشتیوں میں یورپ میں پناہ کی تلاش میں تقریباﹰ 23 ہزار مہاجرین اور تارکین وطن اسپین کے جزائر کیناری تک پہنچے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں