The news is by your side.

Advertisement

کروڑوں ریال کے مالک سعودی شہری کے ساتھ کیا ہوا؟

ریاض: سعودی عرب میں شہریوں کو رات راتوں مال دار بننے کے سبز باغ دکھانے والے سعودی نوجوان کو دھوکہ دہی کے الزام میں جرم ثابت ہونے پر جیل بھیج دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں راتوں رات امیر بننے والے نوجوان قانون کے شکنجے میں پھنس گیا،جدہ فوجداری کی عدالت نے اسے منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کا الزام ثابت ہونے پر جیل بھیج دیا۔

پولیس نے بتایا کہ نوجوان ایک گروہ کی مدد سے چند ماہ کے اندر غیر معمولی دولت بن گیا تھا، اس کے ساتھ ایک شامی اور تین سعودی شریک تھے۔

سعودی نوجوان نے 10 لاکھ ریال کرائے سے عالیشان دفتر کھولا تھا جہاں وہ سادہ لوح شہریوں سے ای بزنس، انٹرنیشنل شیئرز مارکیٹ اور بیرون مملکت کمپیوٹر پروگرام کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرواتا تھا۔

متاثرین کی شکایتوں پر نوجوان کو جیل بھیج دیا گیا ہے، ،جدہ فوجداری کی عدالت نے اسے منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا تھا۔

نوجوان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ سے رجوع کیا تو وہاں سے بھی سابقہ عدالتی فیصلے کی توثیق کی گئی۔ کورٹ نے کہا کہ اول تو اپیل قبل ازوقت کی گئی ہے، دوم یہ کہ مجرم نوجوان کے خلاف مزید 4 عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔

سعودی شہری کا ڈرائیور اس کا دایاں ہاتھ بنا ہوا تھا وہ یومیہ 15 ہزار اور ماہانہ ساڑھے 4 لاکھ ریال لے کر سادہ لوح عوام سے فرضی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرا رہا تھا۔

نوجوان معصوم شہریوں سے جعلسازی کر کے 350 ملین ریال اور 20 لگژری کاروں کا مالک بن گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں