The news is by your side.

Advertisement

کسی شخص پر آسمانی بجلی گر پڑے تو کیا ہوگا؟

ملک بھر میں مون سون کا موسم جاری ہے اور مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہورہی ہیں، ایسے موسم میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں جس میں کئی افراد زخمی یا ہلاک ہوجاتے ہیں۔

یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ محض چند لمحوں کے لیے کڑکنے والی آسمانی بجلی میں ایسا کیا ہے جو لوگوں اور جانوروں کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے اور درختوں کو تباہ کرسکتی ہے، آج ہم نے یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔

امریکا میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے سے جنگلات میں آگ لگنے کے 75 ہزار واقعات پیش آتے ہیں، امریکا میں ہی ہر سال 47 افراد آسمانی بجلی گرنے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں، تاہم اس کا شکار 90 فیصد افراد زندہ بچ جاتے ہیں۔

چند لمحوں کی آسمانی بجلی ایک مضبوط کھڑے درخت کو ایک لمحے میں دو ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتی ہے، لہٰذا یہ بات خوفزدہ کردینے والی ہے کہ انسانی جسم کے اندر یہ کیا نقصانات کرتی ہوگی۔ موت کے علاوہ یہ بجلی انسانی جسم کو شدید اور دیرپا نقصانات پہنچا سکتی ہے۔

آسمانی بجلی میں 1 سے 10 ارب جول توانائی ہوسکتی ہے، یہ اتنی توانائی ہے کہ اس سے 100 واٹ کا بلب مستقل 3 ماہ تک جلایا جاسکتا ہے۔

جب یہ بجلی انسانی جسم کے اندر جاتی ہے تو جسم میں موجود ان چھوٹے الیکٹرک سگنلز کو شارٹ سرکٹ کرتی ہے جو ہمارے دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کو چلاتے ہیں، نتیجتاً آسمانی بجلی کا شکار شخص کو مندرجہ ذیل کیفیات میں سے کسی ایک یا تمام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دل کا درہ

مرگی کا دورہ

شدید دماغی چوٹ

ریڑھ کی ہڈی کو نقصان

یاداشت چلے جانا

اور یہی نہیں، آسمانی بجلی میں موجود توانائی سے پہنچنے والا نقصان تو کچھ بھی نہیں، اصل نقصان اس میں موجود حرارت سے ہوتا ہے۔

جب آسمانی بجلی کڑکتی ہے تو یہ ایک لمحے میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو سورج کی سطح سے 5 گنا زیادہ گرم کر دیتی ہے یعنی 53 ہزار فارن ہائیٹ۔ اس سے ہوا اچانک بہت تیزی سے پھیلتی ہے جس سے ایک زور دار شاک ویو پیدا ہوتی ہے، بجلی گرجنے کی آواز یہی شاک ویو ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آسمانی بجلی زمین پر گرتی ہے تو اس کے آس پاس 30 فٹ کے دائرے میں کھڑا شخص ایک بم دھماکے جتنا جھٹکا محسوس کرسکتا ہے اور اڑ کر دور گر سکتا ہے۔

یہ حرارت، روشنی اور بجلی آپ کی آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سے آپ کے پردہ چشم میں سوراخ ہوسکتا ہے اور کچھ ہفتوں بعد آنکھ میں لازمی موتیا اتر سکتا ہے۔ آسمانی بجلی مردوں کی جنسی قوت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ بجلی جسم میں اندر جانے اور نقصان کرنے کے بعد باہر نکلتی ہے تو مزید نقصان کرتی ہے، جسم سے باہر نکلتے ہوئے یہ خون کے سرخ خلیات پر دباؤ ڈالتی ہےجس سے وہ رگوں سے باہر جلد کی طرف نکلتے ہیں۔ اس سے جلد پر کچھ اس طرح کے نشانات بن جاتے ہیں جنہیں لچٹنبرگ فگرز کہا جاتا ہے۔

آسمانی بجلی میں موجود حرارت جسم پر موجود دھاتی اشیا جیسے گھڑی یا زیورات کو بھی بے تحاشہ گرم کردیتی ہے جس سے تھرڈ ڈگری برن ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں یہ جسم پر موجود بارش کے قطروں یا پسینے کو فوری طور پر بھاپ بنا کر دھماکے سے اڑا سکتی ہے اور اس دھماکے سے بجلی کا شکار شخص کے کپڑے بھی پھٹ سکتے ہیں۔

آسمانی بجلی سے کیسے بچا جائے؟

آسمانی بجلی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ بارشوں کے موسم میں گھر سے نکلتے ہوئے موسم کی صورتحال دیکھی جائے۔ طوفان کے پیش نظر گھر پر ہی رہا جائے۔

اگر آپ گھر سے باہر ہیں تو درختوں، کھمبوں کے نیچے کھڑے ہونے اور کھلی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوط ترین پناہ گاہ کوئی عمارت یا موٹے دھات سے بنی گاڑی ہے جس کے اندر رہا جائے۔

مزید پڑھیں: طیارے سے آسمانی بجلی ٹکرا جانے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں