The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے صحت یاب مریضوں کو 10 ہفتوں بعد کیا ہوتا ہے؟

طب کی دنیا میں ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرونا کے صحت یاب ہونے والے نصف سے زائد مریضوں کو تقریباً 10 ہفتوں بعد مسلسل یا ہروقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے۔

اس سے قبل متعدد تحقیقی رپورٹس میں کرونا سے صحت یابی کے بعد طویل مدت تک مریضوں میں علامات دیکھی گئیں لیکن اب نئی علامت مسلسل یا ہر وقت تھکاوٹ کا بھی سامنے آیا ہے، کووڈ 19 کو شکست دینے والوں کو ہفتوں بعد درپیش یہ مسئلہ عام ہے جسے لانگ کووڈ بھی کہا جاتا ہے۔

آئرلینڈ میں ہونے والی یہ تحقیق طبی جریدے جرنل پلوس ون میں شایع ہوئی۔ اس ریسرچ کے ابتدائی نتائج رواں سال ستمبر میں شایع کیے گئے تھے اور اب دیگر مرحلے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صحت یاب مریضوں میں طویل المعیاد علامات کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے، تھکاوٹ وائرس کی چند عام علامات میں سے ایک ہے جس کا سامنا بیماری کے آغاز پر بیشتر افراد کو ہوتا ہے لیکن دس ہفتوں بعد یہ تھکاوٹ کا سلسلہ ہروقت شروع ہوجاتا ہے۔

عالمی وبا: سائنس دانوں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

تحقیق میں صحتیاب مریضوں میں تھکاوٹ کے مشاہدے کے علاوہ کووڈ 19 کی شدت، لیبارٹری کے اشاریے، ورم کے اشاریوں کی سطح اور پہلے سے بیماریوں کو دیکھا گیا، ریسرچ میں 128 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو کووڈ 19 کو شکست دے چکے تھے، جن میں 54 فیصد خواتین تھیں۔

محققین نے کرونا سے صحت یابی کے بعد ایک گروپ کا 72 دن بعد جائزہ لیا جبکہ دوسرے کا بیماری کی تشخیص کے 14 دن بعد سے ہی مشاہدہ شروع کردیا، جس سے پتا چلا کہ 52 فیصد سے زائد نے تھکاوٹ کی شکایت کی جبکہ صرف 42 فیصد نے مکمل بحالی کو رپورٹ کیا جس بنیاد پر یہ کہا گیا کہ تھکاوٹ مریضوں میں عام ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کرونا سے صحت یابی کے بعد تھکاوٹ کا تعلق مرض کی شدت سے نہیں ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں لانگ کووڈ کی دیگر علامات بھی دریافت ہوچکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں