The news is by your side.

Advertisement

بیرل کسے کہتے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی فی بیرل قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے۔

خام تیل کی پیمائش کیلئے استعمال ہونے والا پیمانہ ”بیرل“ وہ لفظ ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بہت زیادہ سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر سنے اور پڑھے جانے والے لفظ ’بیرل‘ میں کتنا لیٹر خام تیل ہوتا ہے۔ آئیے ہم اپنے قارئین کی معلومات میں اضافے کیلئے بیرل اور اس کی قیمت سے متعلق کچھ تفصیلات پیش کرتے ہیں۔

بیرل کا لفظ آج سے تقریباً چھ سو سال قبل لکڑی کے ڈبوں کےلیے استعمال ہوتا تھا جس میں برطانوی لوگ شراب ذخیرہ کرتے تھے اور شراب کی ذخیرہ اندوزی کا یہ طریقہ کار 19 ویں صدی تک جاری رہا۔

جب 19 ویں صدی میں امریکا کی ریاست پنسولوانیا میں تیل کی نقل و حمل کا کاروبار زور پکڑنے لگا تو روایتی بیرل (شراب کی ذخیرہ اندوزی میں استعمال ہونے والا بیرل) کو تیل کےلیے بھی استعمال کیا جانے لگا اور پیٹرولیم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے 1882 میں ’بیرل‘ کو ہی اپنا معیار بنالیا۔

پیٹرولیم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بیرل کو معیار بنانے کے بعد آج دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کےلیے بیرل کی اصطلاح ہی استعمال کی جاتی ہے۔

ایک بیرل میں 159 لیٹر تیل آتا ہے، آج عالمی مارکیٹ میں فی بیرل پیٹرول کی قیمت 84 ڈالر 92 سینٹ ( پاکستانی 14 ہزار 538 روپے فی بیرل )تقریباً 85 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اگر اس قیمت کو فی لیٹر پر تقسیم کیا جائے تو ایک لیٹر تیل کی قیمت 0.53 ڈالر یعنی پاکستانی 90 روپے 74 پیسے بنتی ہے۔

اس قیمت میں سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی ٹیکس فی لیٹر اور دیگر ٹیکسز کے علاوہ آئل کمپنیز کا مارجن، امپورٹ کرنے کا کرایہ شامل کیا جاتا ہے جب کہ ایل سی، انشورنس، ریفائننگ اور وارفیج چارجز، ڈیلر یا پیٹرول پمپ مالکان کا کمیشن بھی شامل کیے جاتے ہیں جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی قیمت معین کی جاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Comments

یہ بھی پڑھیں