The news is by your side.

Advertisement

آخر یہ ڈی این اے ٹیسٹ ہے کیا؟

ہمارے جسم کے ہر ایک سیل میں ڈی این اے موجود ہوتا ہے جو دو کروموسوم پر مشتمل ہوتاہے جن میں ہر شخص کی انفرادی خصوصیات کا مظہر موجود ہوتا ہے اور یہی خصوصیات آئندہ نسل میں بھی منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے آئندہ نسل شکل و صورت، قد و کاٹھ اور عادت و اطوار کے لحاظ سے پچھلی نسل سے مشابہت رکھتی ہے۔

dna-post-1

حادثات میں ڈی این اے ٹیسٹ ہی وہ واحد طریقہ رہ جاتا ہے جس کے ذریعے لاشوں کو شناخت کر کے لواحقین کے حوالے کیا جاتا ہے جس کے بعد تدفین کا مرحلہ طے پاتا ہے تا ہم اس ٹیسٹ کے پروسیجر میں ایک ہفتہ بھی لگ سکتاہے۔

dna-post-2

ڈی این اے میں موجود جینیٹک کوڈ کے تقابلی جانچ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دو مختلف اشخاص میں کوئی خونی رشتہ ہے کہ نہیں، اسی لیے جھلسی ہوئی یا ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے کر دعوی دار لواحقین کے نمونوں سے ملایا جاتا ہے اگر جینیٹک کوڈ یکساں پائے گئے تو مرنے والے کا لواحقین سے خونی رشتہ ثابت ہو جاتا ہےاور میت ورثاء کے حوالے کر دی جاتی ہے۔


یہ پڑھیں : سپرہیرو ڈی این اے کے ساتھ پیدا ہونے والے تیرہ خوش قسمت افراد


تمام انسانوں میں جینیٹک کوڈ یکساں ہی ہوتا ہے تا ہم معمولی سا فرق ضرور ہوتا ہے جو ایک انسان کی خصوصیات کو دوسرے خاندان سے علیحدہ کرتا ہے اسے جینیٹک مارکر کہا جاتا ہے اسی کی مدد سے لواحقین کا پتہ چلائے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

dna-post-3

ڈی این اے چونکہ جسم کے ہر حصے میں پایا جاتا ہے لہذا جلد سے لے کر دل تک اور خون سے لے کر ہڈیوں تک کہیں سے بھی تشخیصی نمونہ لیا جا سکتا ہے۔

تاہم زیادہ تر فرانزک سائنس دان جاں بحق افراد کے ناخن کے نیچے والی جلد سے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونہ حاصل کرتے ہیں اس نمونے کو لواحقین کے لیے گئےخون کے نمونے سے ملایا جاتا ہے اگر جینیٹک کوڈ یکساں آ جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص اس ہی خاندان کا ممبر تھا۔

dna-post-4

جاں بحق افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیے گئے نمونے سے پولی میرز طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ڈی این اے کی سیکڑوں کاپیاں بنا لی جاتی ہیں یہ طریقہ کار نہ صرف یہ کہ قدرتی ہے بلکہ محفوظ ترین بھی ہے جس میں مختلف اینزائمز کے ذریعے جینیٹک کوڈ بنائے جاتے ہیں اور پھر ان جینیٹک کوڈ کا تقابل لواحقین میں سے کسی شخص سے لیے گئے جینیٹک کوڈ سے کیا جاتا ہے اور جینیٹک کوڈ میچ کر جانے پر لاش کو متعلقہ لواحقین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔


  یہ بھی پڑھیں : ڈی این اے میں تبدیلی کے ذریعے’ڈیزائنربچے‘پیدا کریں


اس طریقہ کار میں غلطیوں کا اندیشہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم پاکستان میں فرانزک لیب، فرانزک سائنس دان اور ماہر عملے کی کمی کے باعث اس ٹیسٹ کو انجام دینے میں کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس کو مکمل ہونے میں ہفتہ بھی لگ جاتا ہے۔

dna-post-5

دنیا بھر میں فرانزک لیب میں ڈی این اے ٹیسٹ کی دستیابی ماہر چوروں کی گرفتاری اور عادی مجرم کو پکڑنے میں کار کرگر ثابت ہوتی ہے جب کہ اسی کے ذریعے کئی ایسے مقدمات کی گتھی سلجھائی گئی ہے جو کرائم کی دنیا میں نا قابلِ تفتیش سمجھے جاتے تھے اور اس ٹیسٹ سے قبل داخلِ از دفتر کردیے جاتے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں