ایم وی ہونڈیئس (MV Hondius) نامی ایک پرتعیش بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ مزید پانچ کیسز کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کروز شپ پر کیا ہوا؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بحری جہاز سے وابستہ ہنٹا وائرس کے آٹھ معلوم اور مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں تین اموات بھی شامل ہیں۔ جہاز کے آپریٹر ‘اوشین وائڈ ایکسپڈیشنز’ نے بتایا کہ بدھ کے روز تین افراد کو جہاز سے نکالا گیا، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ایک اور مریض جنوبی افریقہ میں آئی سی یو میں ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ واپس جانے والے ایک مسافر کا زیورخ میں علاج جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہاز پر اب بھی تقریباً 150 افراد موجود ہیں، جو اتوار سے کیپ ورڈی کے ساحل پر لنگر انداز ہے۔ توقع ہے کہ یہ جہاز اسپین کے کینری جزائر کی طرف روانہ ہوگا۔ جن مسافروں میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں، انہیں جزائر پہنچنے پر اترنے کی اجازت دی جائے گی۔ اسپین کے 14 مسافروں کو فوجی اسپتال میں قرنطینہ کیا جائے گا، جبکہ دیگر مسافروں کو ان کے اپنے ممالک کی ہدایات کے مطابق واپس بھیج کر قرنطینہ کیا جائے گا۔
ہنٹا وائرس کیا ہے؟
ہنٹا وائرس چوہوں سے پھیلنے والے وائرسوں کا ایک گروہ ہے جو انسانوں کو بیمار کر سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 10,000 سے 100,000 تک کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ جبکہ جہاز پر پایا جانے والا وائرس ‘اینڈیز ہنٹا وائرس’ (Andes hantavirus) ہے، جو عام طور پر ارجنٹائن اور چلی میں پایا جاتا ہے۔ یہ جہاز یکم اپریل کو ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا۔
یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک سے براہ راست رابطے یا ان کے ذرات کے ہوا میں شامل ہونے (خاص طور پر صفائی کے دوران) سے پھیلتا ہے۔ جبکہ اینڈیز وائرس واحد ہنٹا وائرس ہے جو انسان سے انسان میں قریبی اور طویل رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ اس جہاز پر یہ وائرس انسان سے انسان میں منتقلی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ‘قریبی رابطے’ سے مراد ایک ہی کیبن یا کمرہ شیئر کرنا ہے۔
وائرس کی علامات کیا ہیں؟
اس وائرس کی علامات عام طور پر ایک سے آٹھ ہفتوں کے بعد شروع ہوتی ہیں۔ ان میں بخار، پٹھوں میں درد اور پیٹ کے مسائل شامل ہیں۔ ‘اینڈیز وائرس’ پھیپھڑوں میں پانی بھرنے اور دل کی پیچیدگیوں (Hantavirus Cardiopulmonary Syndrome) کا باعث بن سکتا ہے، جس میں شرح اموات 50 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
کیا اس کا علاج ممکن ہے؟
ہنٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین نہیں ہے۔ موجودہ طریقہ علاج صرف ‘سپورٹیو کیئر’ (جیسے آرام، سیال اشیاء اور ضرورت پڑنے پر وینٹی لیٹر) پر مبنی ہے۔ اس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ چوہوں سے دوری اور صفائی ستھرائی ہے۔
عوام کے لیے خطرہ کتنا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کروز شپ پر اس طرح کا پھیلاؤ غیر معمولی ہے، لیکن عام عوام کے لیے خطرہ اب بھی کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ 2025 کے اواخر سے براعظم امریکا میں ہنٹا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اب متعلقہ ممالک واپس آنے والے مسافروں کی نگرانی اور قرنطینہ کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


