The news is by your side.

Advertisement

اجتماعی قوتِ مدافعت یا ہرڈ ایمیونٹی کیا ہے؟

دبئی: سپر ہیومن ایمیونٹی یا ہرڈ ایمیونٹی حالیہ دنوں میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جو سائنسدان استعمال کررہے ہیں، جنہوں نے کرونا وائرس کے خلاف نام نہاد بلٹ پروز ایمیونٹی بنائی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں نے وضاحت کی ہے کہ ہرڈ ایمیونٹی اور قدرتی ویکسین سے پیدا ہونے والی ایمیونٹی کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔

برجیل اسپتال کے مشیر مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر سندر الیاپیرومل کا کہنا ہے کہ جب سارس کو وی ٹو کے خلاف قدرتی طور پر حاصل ہونے والی قوت مدافعت ویکسین سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت کے ساتھ مل جاتی ہے تو ہماری توقع سے زیادہ مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔

الفاطمہ ہیلتھ میں چیف کلینکل آفیسر ڈاکٹر تھوالفقار نے وضاحت کی ہے کہ ہرڈ ایمیونٹی سسٹم کا رسپانس اچھی پوزیشن میں ہے ، مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے شخص کے بدن میں اینٹی باڈیز بننے کا عمل مؤثر رہتا ہے جوکہ کرونا وائرس کے خلاف فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

القوسیسی کے آستر کلینک میں جنرل میڈیسن کے ڈاکٹر محمد سلیمان خان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وہ ویکسین جو آر این اے پر بنیاد رکھتے ہوں ، وہ سارس کو ٹو وائرس کے انفیکشن کے بعد سپیرئیر ایمیون پروٹیکشن دیتا ہے۔

یو اے ای میں جہاں کرونا کیسز میں کمی کی روشنی میں ڈاکٹروں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے باشندوں میں ہرڈ ایمیونٹی کا رجحان بڑھ سکتا ہے، دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی مضبوط ویکسی نیشن مہم کو ڈاکٹروں نے بہترین قرار دیتے ہوئے اسے مدافعتی رجحان کے لئے کریڈٹ دیا ہے۔

ڈاکٹر الباج کا کہنا ہے کہ ہرڈ ایمیونٹی عام طور پر اس وقت حاصل کیا جاتا ہےجب کل آبادی کا کم از کم اسی فیصد مدافعتی ہوجائے اور یا تو سارے وائرس سے متاثر ہو یا ویکسین لگوالیں۔

ڈاکٹر خان کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ہم نے ہرڈ ایمیونٹی تقریبا حاصل کی ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ آبادی کے بڑے حصے کو کم از کم ایک کرونا ویکسین کا ڈوز مل چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں