The news is by your side.

Advertisement

انسانی جسم کی تیز ترین حرکت کیا؟، ماہرین مشکل میں پڑگئے

کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ انسانی جسم کی تیز ترین حرکت کیا ہے؟

اگر آپ کا خیال ہے کہ پلک جھپکانا تو غلط درحقیقت ہاتھوں کی انگلیوں سے چٹکی بجانا انسانی جسم کی تیز ترین حرکت ہوتی ہے۔

جارجیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق ایک چٹکی بجانے کا عمل محض 7 ملی سیکنڈ میں مکمل ہوجاتا ہے، اس تحقیق پر کام ماہرین نے ایوینجرز انفٹنی وار کے ولن تھینوس کی چٹکی کو دیکھتے ہوئے کیا تھا جس کے نتیجے میں کائنات کی آدھی زندگی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

چٹکی بجانا تین مراحل پر مشتمل عمل ہے جس کا آغاز انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھے دبانے سے ہوتا ہے جس سے نسوں میں توانائی کا ذخیرہ ہوتا ہے، انگلیوں کی رگڑ ایک کھٹکے کی طرح کام کرتی ہے جو ابتدا میں توانائی کے اخراج کی روک تھام کرتا ہے مگر جب
درمیانی انگلی انگوٹھے سے آگے نکلتی ہے تو اس توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔

مگر تحقیقی ٹیم کا خیال تھا کہ جلد کی رگڑ چٹکی بجانے میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرتی ہے، تحقیق کے لیے ماہرین نے سنسرز، ہائی اسپیڈ فوٹوگرافی اور آٹومیٹڈ امیج پراسیسنگ کے امتزاج کے ذریعے متعدد افراد کے چٹکی بجانے کے عمل کا تجزیہ کیا تاکہ رگڑ کے کردار کا تعین کرسکیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ انگلیوں سے عام چٹکی بجانے کے دوران 7800 ڈگریز فی سیکنڈ ریشنل ویلاسٹی تک رفتار ہوتی ہے جبکہ ریشنل ایکسیلریشن یا سرعت 16 لاکھ ڈگری فی سیکنڈ اسکوائر ہوتی ہے۔

ولاسٹی کے حوالے سے تو چٹکی بجانا انسانی تیز ترین حرکت نہیں بلکہ یہ اعزاز بیس بال پچر کے ہاتھ کی حرکت کے پاس ہے مگر سرعت کے حوالے سے چٹکی بجانے کا عمل ریکارڈ بریکر ہے، جو بیس بال پچر کی رفتار کو شکست دے دے دیتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ انگلیوں سے چٹکی بجانے کا عمل محض 7 ملی سیکنڈ میں مکمل ہوتا ہے جو کہ پلک جھپکانے کے مقابلے میں 20 گنا سے زیادہ برق رفتار ہے جس کے لیے 150 ملی سیکنڈ سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

جب انہوں نے یہ تجربہ دھاتی پنجے کو پہن کر کیا تو دریافت ہوا کہ ایسا کرنے سے رفتار میں ڈرامائی کمی آئی، اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی رائل سوسائٹی انٹرفیس میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں