The news is by your side.

تذبذب کا شکار افراد کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ جان کر حیران رہ جائیں

فوری قوت فیصلہ نہ ہونا انسان کی خامی تصور کی جاتی ہے لیکن نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تذبذب کا شکار افراد ذہین ہوسکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ذہانت کا معیارات میں سے ایک معیار فوری اور بروقت فیصلے کرنا ہے بھی ہے یعنی جو شخص کسی بھی معاملے میں فوری فیصلہ کرتا ہے اسے ذہین تصور کیا جاتا ہے جب کہ اس معاملے میں تذبذب کا شکار افراد کو خامی تصور کیا جاتا ہے لیکن نئی تحقیق نے اس خیال کو غلط قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے جرمنی میں ایک طبی تحقیق کی گئی۔ ڈریسڈن یونیورستٹی میں کی جانے والی اس تحقیق میں 1300 افراد کے جانچ پڑتال کی گئی جس سے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جو کسی چیز یا کام کے لیے اپنا ذہن بنانے میں وقت لگاتے ہیں اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ ایسے افراد دیگر کے مقابلے میں ذہین ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں شامل افراد کو فیصلہ سازی کے رویوں کے حوالے سے 3 آپشن دیے گئے اور کہا گیا کہ اپنے جوابات کو ریٹ کریں۔ ان نتائج سے معلوم ہوا کہ تذبذب کے شکار افراد نے جوابات دینے کے لیے سب سے زیادہ وقت لیا۔ محققین کے مطابق یہ عادت ذہانت کا عندیہ ہوسکتی ہے مگر مستقل تذبذب میں پھنسے رہنا منفی اثرات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تحقیقی جرنل میں شائع اس تحقیق کے نتیجے میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد کسی بھی فیصلے میں تذبذب کا شکار ہوں اور فوری طور پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو وہ تجزیہ کرکے فیصلہ کرتے ہیں اور یہ افراد تعصب کا شکار بھی نہیں ہوتے۔

اس تحقیق کے لیے ماضی میں ہونے والی 5 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ بھی کیا گیا تھا اور یہ جانچا گیا تھا کہ لوگ مختلف حالات میں کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ محققین نے ان رپورٹس کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تذبذب یا ہچکچاہٹ سے ہمیں ضروری وقفہ ملتا ہے اور ہم زیادہ بہتر فیصلہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

تو اگر آپ بھی زندگی کے معاملات میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں تو پریشان نہ ہوں اور اس حوالے سے لوگوں کی تنقید کو بھی نظر انداز کردیں کیونکہ آپ کا شمار ذہین افراد میں بھی ہوسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں