The news is by your side.

Advertisement

ملک میں مہنگائی کی شرح کیا ہے؟

اسلام آباد: قومی ادارہ برائے شماریات نے مہنگائی کے ماہانہ اعداد وشمار جاری کردیے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ (نومبر) میں مہنگائی کی شرح 8.3 فی صد رہی۔

ادارہ شماریات کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد تھی، جولائی سے نومبر تک مہنگائی کی شرح 8.76 فیصد رہی، نومبر کے دوران چکن 21.36 اور ٹماٹر 15.68فیصد مہنگے ہوئے، شہروں میں آلو 8.79 ، پیاز 5.81 اور سبزیاں 5.63 فیصد مہنگی ہوئیں، ماہانہ بنیادوں پرخشک میوہ جات کی قیمت میں 4.38 فیصد اضافہ ہوا۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ نومبر کے ماہانہ بنیادوں پر انڈے2.83فیصد مہنگے ہوئے، نومبر کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں 10.31 فیصداضافہ ہوا، نومبر میں آٹا 4.83 اور گندم 4.1 فیصدسستی ہوئی، نومبر میں دال مونگ 3.54 اور دال چنا 1.94 فیصد سستی ہوئی، نومبر 2019 کے مقابلے میں رواں نومبر آلو 56.11 فیصد مہنگا ہوا ہے۔

ایک سال میں انڈے 48.67 اور چکن 46.82 فیصد مہنگا ہوا، سالانہ بنیادوں پر گندم 36.6 فیصد اور چینی 35.78 فیصد مہنگی ہوئی، دال مونگ 26.12، ماش 22.61 اور مسور 15.76 فیصد مہنگی ہوئی، نومبر 2019 کے مقابلے میں ٹماٹر 22.58 اور پیاز 6.6 فیصد مہنگے ہوئے، سالانہ بنیاد پر پھلوں کی قیمت میں 3.59 فیصد کمی ہوئی۔

ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جولائی سے نومبر تک آلو 72.38 اور لال مرچ 59.80 فیصدمہنگی ہوئی، ادرک 56.2 اور انڈے 41.2 فیصد مہنگے ہوئے، 5ماہ میں گندم 37.4، آٹا 32.8 اور چینی 28.49 فیصدمہنگی ہوئی، دال مونگ 38.3، دال ماش 31 اور دال مسور 24.6 فیصدمہنگی ہوئی، 5ماہ میں ٹماٹر 36.6 فیصد مہنگے ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں