The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی دریافت ہونے والی نئی قسم کتنی خطرناک ہوسکتی ہے؟ ماہرین نے خبردار کردیا

لندن: برطانیہ میں حالیہ دونوں کوروناوائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے، اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی نئی قسم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب برطانیہ میں وبا کے خلاف ویکسی نیشن کا آغاز کیا جاچکا ہے، ماہرین کو خدشہ ہے یہ نئی دریافت بھیانک ہوسکتی ہے، جو برطانیہ کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل بھی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی برطانیہ میں اس نئی بیماری کے 1 ہزار کیسز رپورٹ بھی ہوچکے ہیں۔ طبی ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ نئی بیماری کوروناوائرس میں میوٹیشن عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، لیکن اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سائنس دان ابھی نئی قسم کی اصل جڑ تک نہیں پہنچ سکیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن مکنیلی کا کہنا ہے کہ سارس کووڈ 2 سے پیدا ہونا والا وائرس کووڈ 19 میں ہمیشہ میوٹیشن کا عمل جاری رہتا ہے، ممکنہ طور پر نئی قسم کی وجہ بھی یہی ہے۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آگئی

انہوں نے مزید کہا یہ وائرسسز کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں جو عام سی بات ہے جہاں ہمیں صبر اور اس کے خلاف حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ کووڈ 19 کی اس نئی قسم کے حوالے سے ماہرین تذبذب کا شکار ہیں، کسی کی نظر میں یہ خطرناک تو کوئی اسے عام مسئلہ کہہ رہا ہے۔ یونیورسٹی آف لیورپول کے پروفیسر جیلیان کا کہنا ہے کہ ہمیں نئے چیلنج کے آغاز کا پتا لگانا ہے اور بھرپور حکمت عملی سے اسے روکنا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں