The news is by your side.

Advertisement

امریکی کرونا ویکسین کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ بڑا انکشاف

فرینکفرٹ: کرونا وائرس ویکسین کے سلسلے میں گزشتہ روز دنیا نے جو خوش خبری سنی تھی، اس ویکسین کے پیچھے ایک ترک نژاد جوڑے کی کہانی ہے جس نے اپنی پوری زندگی کینسر کے خلاف امیون سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

گزشتہ روز فارما کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کرونا ویکسین کے فیز تھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے 90 فی صد مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔

جرمنی کی بائیو این ٹیک اور امریکی شراکت دار فائزر کی کو وِڈ 19 ویکسین کے ان مثبت اعداد و شمار کے پیچھے ایک ترک نژاد میاں بیوی کی کہانی ہے، یہ جوڑا ہے ڈاکٹر اوگر شاہین اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر اوزلم تورجی۔

روئیٹرز کے مطابق اس ترک نژاد جوڑے کا تعلق ایک کم آمدن والے طبقے سے تھا، بائیو این ٹیک کے 55 برس کے سربراہ ڈاکٹر اوگر شاہین جرمنی کے شہر کولون میں فورڈ کمپنی میں ایک ترک تارکِ وطن کے طور پر مزدور تھے، جب کہ ڈاکٹر تورجی ایک ترک نژاد ڈاکٹر کی بیٹی ہے جو خود ترکی سے ایک تارک وطن کی حیثیت سے جرمنی آئے تھے۔

ترک نژاد ڈاکٹر جوڑی: ڈاکٹر اوگر شاہین اور ان کی اہلیہ اوزلم تورجی

اب ڈاکٹر شاہین اور ان کی 53 برس کی بیوی ڈاکٹر اوزلم تورجی کا شمار جرمنی کے 100 ارب پتیوں میں ہوتا ہے، اس وقت ڈاکٹر شاہین اور ڈاکٹر تورجی کی کمپنی کی قیمت 21 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے، گزشتہ جمعے تک اس کی قیمت 4.6 ارب ڈالر تھی۔

تاریخی دن : امریکی کورونا ویکسین کے مثبت نتائج آنا شروع

ڈاکٹر اوگر شاہین شام کے شہر حلب کی سرحد کے قریب ترکی کے شہر اسکندرون میں پیدا ہوئے، وہ والد کے ساتھ جرمنی منتقل ہوئے تھے، بہت سادہ مزاج ہیں، بڑے سے بڑے اجلاس میں بھی دفتر جینز میں اپنی بائیسیکل پر ہیلمٹ پہن کر آتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہین کو بچپن سے طبی تعلیم کا شوق تھا، انھوں نے تعلیم کے بعد کولون اور ہومبُرگ کے مختلف تدریسی استالوں میں کام کیا، ہومبرگ ہی میں ان کی ملاقات ڈاکٹر تورجی سے ہوئی، دونوں کی میڈیکل ریسرچ اور علمِ سرطان (اونکولوجی) میں گہری دل چسپی تھی۔ ایک جریدے کے مطابق دونوں کو کام سے اتنا لگاؤ تھا کہ شادی کے روز بھی اپنی لیبارٹری میں کام کر رہے تھے، اور وہیں سے گھر پہنچ کر تیار ہوئے۔

دونوں نے تحقیق کے دوران جسم میں کینسر کے خلاف لڑائی میں مددگار امیون سسٹم کا سراغ لگایا، 2001 میں انھوں نے گینیمڈ فارماسیوٹیکلز کا آغاز کیا، اور کینسر سے لڑنے والے اینٹی باڈیز تیار کیے۔ اس کام کی وجہ سے انھیں دو سرمایہ کار کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ ملا۔ یہ کمپنی انھوں نے 2016 میں جاپانی کمپنی اسٹیلاز کو تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز میں بیچ دی۔

تاہم، گینیمڈ کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم پہلے ہی بائیو این ٹیک (BioNTech) پر کام شروع کر چکی تھی (یہ کمپنی 2008 میں بن گئی تھی) اور کینسر کی امیونوتھراپی طریقوں کی ایک وسیع رینج کے حصول کے لیے کوشاں تھی، جس میں میسنجر آر این اے (mRNA) بھی شامل تھا، جو کہ ایک ہمہ گیر پیغام رساں مادہ ہے، جو خلیات میں جینیاتی ہدایات بھیجتا ہے۔

بائیو این ٹیک کی اس کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ڈاکٹر شاہین کی نظر سے ایک تحقیقی مقالہ گزرا جو چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس پر مبنی تھا، انھیں فوراً یہ خیال آیا کہ دافع کینسر mRNA دوا اور mRNA پر مبنی وائرل ویکسینز کے درمیان فرق بہت ہی کم ہے۔ اس پر انھوں نے کمپنی میں 500 عملے کے ارکان کو متعدد ممکنہ مرکبات کی تیاری پر لگا دیا۔

بعد ازاں، مارچ میں امریکی کمپنی فائزر اور چینی کمپنی فوسن نے بھی ان کے ساتھ پارٹنر شپ کر لی۔اور آج اس پارٹنر شپ کا ثمر دنیا کے سامنے ایک مؤثر کرونا وائرس ویکسین کی صورت میں آ گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں